صدر ٹرمپ کا امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ شرکت کا اعلان

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شریک ہوں گے اور انہیں امید ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔ مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج دیا ہے۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں منصفانہ معاہدے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں کے آگے جھکنا قابل قبول نہیں۔ عالمی جوہری ادارہ (International Atomic Energy Agency) ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق وضاحت اور تنصیبات تک مکمل رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے مابین براہِ راست مذاکرات مسقط میں شروع، پاکستان سمیت کوئی ملک شریک نہیں

امریکا یورینیم افزودگی روکنے پر زور دے رہا ہے جبکہ ایران پابندیوں میں نرمی کے بدلے محدود جوہری پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ مذاکرات کی کامیابی خطے کی سلامتی اور عالمی تیل منڈی کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی سے اسرائیل ناخوش، امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں

جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان کا پاکستان سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

وفاقی کابینہ اجلاس: اراکین کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟