آزاد جموں و کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ غلام مصطفیٰ مغل کو بطور چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق سمری پر چیئرمین کشمیر کونسل اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کر دیے ہیں۔ منظوری کے بعد سمری وزارت امورِ کشمیر کے ذریعے صدر آزاد کشمیر کے دفتر کو ارسال کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: نئے آئی جی آزاد کشمیر لیاقت علی کی سادہ کپڑوں میں کوہالہ آمد، ناکے پر پولیس اہلکار پہچان نہ سکے
تقرری کا پس منظر
چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے 3 نام چیئرمین کشمیر کونسل کو بھجوائے گئے تھے، جن میں سے جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کے نام کی منظوری دی گئی۔
جسٹس غلام مصطفیٰ مغل اس سے قبل بھی آزاد کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دے چکے ہیں اور طویل عرصہ عدالتی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔
پیشہ ورانہ زندگی
30 جنوری 2002ء کو آزاد کشمیر ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے۔
4 جنوری 2010ء کو آزاد کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے۔
18 فروری 2016ء کو چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر مقرر کیے گئے۔
2016ء کے عام انتخابات ان کی نگرانی میں شفاف اور منصفانہ قرار دیے گئے۔
30 مارچ 2017ء کو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔
مزید پڑھیں: اوورسیز کشمیر کانفرنس: 16 فروری کو آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان
ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اہم اور تاریخی فیصلوں کے باعث ان کی پیشہ ورانہ ساکھ مستحکم رہی ہے۔ عدالتی اصلاحات اور انصاف تک عوامی رسائی کے لیے ان کی خدمات کو نمایاں قرار دیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
غلام مصطفیٰ مغل 25 دسمبر 1955ء کو مظفرآباد کے گاؤں بلگران میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج مظفرآباد اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1980ء کی دہائی میں وکالت سے اپنے عملی کیریئر کا آغاز کیا۔













