کیا کوئی ملک خریدا جا سکتا ہے؟

بدھ 18 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو خریدنے کی بات کی تو یورپ میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کئی لوگوں نے اسے پرانے زمانے کی سامراجی سوچ قرار دیا۔ لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکا صرف جنگوں کے ذریعے نہیں، بلکہ زمین خرید کر بھی پھیلا ہے۔ 2 صدیوں سے زیادہ عرصے میں امریکا نے کئی بڑے علاقے رقم دے کر حاصل کیے۔

لوزیانا: سب سے بڑی خریداری

انیسویں صدی کے آغاز میں فرانس کے پاس ایک بہت بڑا علاقہ تھا جسے لوزیانا کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ آج کے کئی امریکی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ اس وقت فرانس اس خطے پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا تھا اور اسے سنبھالنا بھی مشکل تھا۔

امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ابتدا میں صرف نیو اورلینز خریدنے کی پیشکش کی، لیکن فرانس نے پورا وسیع علاقہ 15 ملین ڈالر میں دینے کی پیشکش کر دی۔ 1803 میں یہ معاہدہ طے پایا اور امریکا کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ سودا امریکی تاریخ کے اہم ترین معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔

فلوریڈا: دباؤ کے بعد معاہدہ

فلوریڈا اسپین کے قبضے میں تھا، لیکن اسپین کمزور ہو چکا تھا اور علاقے پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا تھا۔ سرحدی جھگڑوں اور حملوں کے بعد امریکا نے فلوریڈا پر دباؤ بڑھایا۔ آخرکار 1819 میں اسپین نے 5 ملین ڈالر کے عوض فلوریڈا امریکا کے حوالے کر دیا۔ یہ معاہدہ بھی طاقت کے توازن کا نتیجہ تھا۔

ورجن آئی لینڈز: سونے کے بدلے جزائر

پہلی عالمی جنگ کے دوران امریکا کو خدشہ تھا کہ جرمنی ڈنمارک پر قبضہ کر کے اس کے جزائر استعمال کر سکتا ہے۔ امریکا نے ڈنمارک کو 25 ملین ڈالر سونے کی شکل میں پیش کیے۔ بالآخر 1917 میں ورجن آئی لینڈز امریکا کے حوالے کر دیے گئے۔ اس معاہدے میں امریکا نے ڈنمارک کے گرین لینڈ پر حق کو بھی تسلیم کیا۔

گرین لینڈ کی بحث

گرین لینڈ وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ امریکا ماضی میں بھی اسے خریدنے کی پیشکش کر چکا ہے، لیکن ڈنمارک نے انکار کیا۔ آج جب اس معاملے پر دوبارہ بات ہو رہی ہے تو سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا جدید دور میں کسی ملک یا علاقے کو خریدا جا سکتا ہے؟

امریکی تاریخ بتاتی ہے کہ زمین خریدنا اس کی توسیع کا ایک اہم طریقہ رہا ہے۔ کبھی بیچنے والا راضی تھا، کبھی دباؤ میں۔ اس پس منظر میں گرین لینڈ کی بحث نئی ضرور ہے، مگر غیر معمولی نہیں۔ تاہم آج کی دنیا میں ایسے معاہدے صرف پیسے سے نہیں، بلکہ سیاست، عوامی رائے اور بین الاقوامی قوانین سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔

مضمون نگار ایوگینی نورِن روسی صحافی اور مؤرخ ہیں، جو سابق سوویت یونین کے خطے میں جنگ ان کا خصوصی موضوع  ہے۔

بشکریہ: رشیا ٹو ڈے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘