جھنگ میں چناب اور جہلم کے سنگم پر خاموش بحران

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جھنگ پنجاب کا وہ ضلع ہے جہاں دریائے چناب اور دریائے جہلم ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہی سنگم صدیوں سے زراعت، ماہی گیری اور دیہی زندگی کا مرکز رہا ہے۔ آج اسی سنگم پر دریاؤں کا بہاؤ کمزور اور غیر متوازن ہو چکا ہے، کہیں پھیلا ہوا خشک دریا کا پاٹ اور کہیں چند دنوں کی بارش میں پانی کھیتوں کو نگل لیتا ہے۔ پانی کی کمی اور غیر متوقع سیلاب نے جھنگ میں زراعت، ماہی گیری اور روزگار کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہنزہ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، فصلیں تباہ، رہائشی مکان متاثر

موضع حسنانہ سے تعلق رکھنے والی ایک بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ  موضع حسنانہ جھنگ کی رہائشی ہیں،  ان کے  گلے میں رسولیاں ہیں۔  سیلاب کے دوران اپنی 2 بھانجیوں کے ہمراہ  دوائی لینے کے لیے ڈی ایچ کیو جھنگ کشتی نہ ملنے کے سبب چارپانی کے ساتھ ٹیوب باندھ کر جانا پڑا  ۔سیلابی پانی میں 3 مربع کے قریب سفر کر کے وہ حفاظتی بند تک پہنچیں اور پھر وہاں سے رکشہ سواری پر اسپتال پہنچیں۔ واپسی  کے سفر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں  نے بہت منتیں کیں مگر انہیں کسی نے کشتی پر نہیں بٹھایا۔ پھر وہ جب ٹیوب (ٹائر ٹیوب) سے واپس روانہ ہوئیں تو پانی زیادہ ہوگیا  اور راستے میں کشتی والوں نے انہیں سوار کیا اور وہ واپس گھر پہنچیں۔ خطرناک سفر کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی مجبوری ہے۔

آباد علاقوں کا حصہ 44 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد تک رہ گیا

 دریائے چناب اور جہلم کے کنارے واقع ضلع جھنگ میں 2010 کے تباہ کن سیلاب نے زمین کے استعمال اور قدرتی مناظر کو نمایاں طور پر بدل دیا۔ جریدہ Journal of Himalayan Earth Sciences  میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سیلاب سے پہلے اور بعد کے سیٹلائٹ امیجز کے تقابلی جائزے سے معلوم ہوا کہ سیلاب کے دوران جھنگ میں آباد علاقوں کا حصہ 44 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد تک رہ گیا، جبکہ پانی سے ڈھکا رقبہ سیلاب سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 5 گنا بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اگست 2010 میں، جب سیلاب عروج پر تھا، دریاؤں سے باہر نکلنے والا پانی زرعی زمینوں، آبادیوں اور سڑکوں تک پھیل گیا، جس سے زمین قابلِ کاشت نہ رہی۔ اگرچہ سیلاب کے بعد پانی بتدریج واپس دریائی حدود میں چلا گیا اور بحالی کا عمل شروع ہوا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شدید بارشوں، موسمیاتی تغیر اور بار بار آنے والے سیلاب دریائے چناب اور جہلم کے ساتھ واقع اضلاع میں زمین کے استعمال، زرعی نظام اور دیہی زندگی کو مستقل طور پر غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دریائے کابل پر سیلاب کا خدشہ، فیڈرل فلڈ کمیشن کا الرٹ جاری

حق نواز کا تعلق ضلع جھنگ سے ہے وہ دریائے چناب کے کنارے کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سیلاب سے قبل انکا کھیت بہتر تھا مگر سیلاب کے بعد ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سیلابی پانی کے ساتھ کھیتوں میں ریت شامل ہوگئی ہے جس سے اب کھیت کو پانی لگانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ان کا کھیت دریائے چناب کے بالکل کنارے پر ہے۔ ان کا بارہ ایکٹر رقبہ تھا مگر دریا کے مسلسل کٹاؤ کی وجہ سے اب یہ 4 ایکٹر رہ گیا ہے جبکہ 6 ایکٹر دریا برد ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ فصلوں کی ایوریج میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ آدھے کھیت میں فصل ہوتی ہے اور آدھے میں نہیں۔

سیلاب کے بعد کھیت آباد کرنے کے حوالے سے حکومتی امداد کے بارے میں سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کرتی، نا ریت نکالنے میں مدد دیتی ہے اور نہ کوئی مالی امداد۔

گزر بسر دریا کے رحم و کرم پر

80 سالہ محمد امیر بھی دریائے چناب کے کنارے آباد ہیں۔ ان کا گزر بسر بھی دریا کے رحم و کرم پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دریا کنارے آباد اپنے کھیت میں کپاس، چاول، گنا، گندم اور دیگر فصلیں کاشت کرتے تھے اور بہت اچھی پیداوار ہوتی تھی۔ مگر اب دریا میں کبھی پانی کی کمی اور کبھی سیلاب کے باعث اب صرف کماد ، چارہ یا گندم کاشت ہوتی ہے۔  ان کا مزید کہنا ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو مویشی دریا کے حفاظتی بند پر عارضی پناہ گاہ بنا کر رہتے ہیں۔ اس دوران وہ کسی دوست، برادری کی مدد سے ان کے چارے کا انتظام کرتے ہیں چاہے وہ انہیں خریدنا پڑے یا ان کا دوست بلا معاوضہ چند روز دے دے۔ یہ وقت گزارنے والا معاملہ ہے کوئی اچھے حالات تو نہیں۔ جب سیلاب کا پانی واپس چلا جاتا ہے تو فصل کے موسم کی مناسبت سے کاشت کاری کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟

حکومتی امداد سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پٹواری، تحصیل دار نے گھر سے تو کسی کو نہیں دینا حکومت جتنا انہیں دیتی ہے اسی حساب سے وہ کسانوں کو دیتے ہیں، کسی کو 5 ہزار تو کسی کو 4 ہزار۔ ان کا کہنا ہے کہ 5-10 ہزار سے کیا ہوتا ہے؟۔ اس سے تو ایک فصل کا بیج بھی نہیں خریدا جاسکتا۔

جھنگ، شورکوٹ اور چنیوٹ میں دریاؤں کے کنارے رہنے والے چرواہوں کے لیے ’ایگرو گریزنگ‘ اہم ذریعہ معاش ہے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق جھنگ، شورکوٹ اور چنیوٹ میں چرواہوں کو اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہ کی تلاش میں روزانہ 2 سے 7 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے، جو موسم کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ خشک سالی اور سردیوں کے مہینوں میں قدرتی چراگاہیں ختم ہو جاتی ہیں، جس کے بعد جانوروں کو صرف گندم کا بھوسہ کھلایا جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمزور جانوروں کی نسلیں، ناکافی ویٹرنری سہولیات، دور دراز منڈیاں اور مالی معاونت کی کمی چرواہوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر دریا کنارے چراگاہیں موسمیاتی دباؤ اور سیلابی تغیرات کی زد میں رہیں تو یہ صورتحال نہ صرف دیہی معیشت بلکہ مویشی پالنے کے پورے نظام کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔

بہت مشکل دن ہیں

شاکر بھی دریائے چناب اور جہلم کے درمیان آباد ہیں۔ ان کا گزر بسر کا زیادہ انحصار مال مویشی پر ہے۔ جس میں ان کے پاس زیادہ تر چھوٹے جانور ہیں، جن میں بکریاں، بکرے، چھترے شامل ہیں۔ وہ انہیں صبح گھر سے لے کر نکلتے ہیں اور شام تک دریا کنارے گھاس کھلاتے ہیں تاکہ کم لاگت میں انہیں پال سکیں۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ زرعی رقبہ خرید یا ٹھیکہ پر حاصل کرکے جانوروں کا چارہ کاشت کر سکیں۔  ان کا کہنا ہے کہ بہت مشکل دن ہیں، مال مویشی بھوک سے مر رہے ہیں۔ جب سیلاب آتے ہیں فصلیں خراب ہو جاتی ہیں اور دوبارہ کاشت کے لیے سرمایہ نہیں ہوتا۔ ان کا گزارا مال مویشی سے ہی ہوتا ہے اور جب سیلاب آئے تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ چراگاہیں سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔ جانور بھوک سے مرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارت نے دریائے چناب پر متنازع پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی

 2025 کے شدید مون سون اور سیلاب نے پاکستان کے زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق ملک کی 20.7 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور 82 فیصد افراد مہنگائی کی وجہ سے صحت مند خوراک نہیں لے سکتے۔ پنجاب اور سندھ میں چاول، کپاس، گندم اور گنے کی فصلیں شدید متاثر ہوئیں، جس سے کسانوں کو مالی نقصان اور غذائی بحران کا سامنا ہے۔ گندم کی پیداوار تقریباً 8.9 فیصد کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ کپاس اور چاول کی پیداوار بھی شدید متاثر ہوئی۔

 فیصل حیات موضع دادوآنہ کے رہائشی ہیں جو دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل سیلاب آیا اور چلا گیا مگر اس موضع دادوآنہ میں سیلاب کا پانی 3 ماہ سے زائد عرصہ کھڑا رہا۔ دریا میں پانی نہیں تھا مگر ہمارے کھیتوں میں پانی کھڑا تھا۔ اس سے ہماری فصلیں تباہ ہوگئیں۔ کماد ہماری بڑی فصل ہے، جو پانی کو روکتی ہے اس سے لڑتی ہے مگر اس بار کماد بھی ختم ہوگیا۔ ہمارا زمینی پانی بھی اس سے خراب ہوگیا ہے۔

خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

فیصل حیات کا مزید کہنا ہے کہ جب دریا سے سیلابی پانی آتا ہےتو ہمارے بچوں خصوصاً خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نہ کوئی پردے داری رہتی ہے، نہ کوئی عزت رہتی ہے، روڈ پر قیام تو کبھی کسی کی طرف یا کیمپ میں، اس سے خواتین اور بچوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔  پانی جب واپس چلا جاتا ہے تو بیماریوں کا حملہ شروع ہوجاتا ہے۔ حکومت پانی کے عرصے کے دوران یہاں آتی ہے، پانی کے بعد حکومت یہاں نہیں آتی، سیلاب کے بعد بھی ہمارے کھیتوں میں مہینوں پانی کھڑا رہتا ہے یہ ہم سے بعد میں حکومت نہیں پوچھتی۔

فیصل حیات کا مزید کہنا ہے کہ گندم کی فصل بھی ہم نے موسم گزر جانے کے بعد اسی وجہ سے تاخیر سے کاشت کی ہے۔  ہم نے تب ہی کاشت کرنی تھی جب پانی خشک ہونا تھا۔  ان کا کہنا ہے کہ سیلاب کی نسبت بعد میں ان کی مشکلات زیادہ ہوجاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پاکستانی چاول، کپاس اور دیگر فصلیں اپنے اختتام پر ہیں؟

ان کا مزید کہنا ہے کہ پینے کے لیے زیر زمین پانی پہلے 30 فٹ گہرا تھا اب اسی فٹ پر بھی پانی استعمال کے قابل نہیں۔ اگر ہم پانی بھر کر شیشے کے گلاس میں رکھ دیں تو 10 سے 15 منٹ بعد رنگ اپنا بدلنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے بچوں اور ہمیں بیماریاں لگ جاتی ہیں کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی پانی کا ذریعہ نہیں ہم نے یہی پانی پینا ہے۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ فلٹر استعمال کریں یا فلٹر سے پانی بھر کر لے آئیں۔ ہم نے تو ہینڈ پمپ سے پانی نکالنا ہوتا ہے۔

فیصل حیات کا مزید کہنا تھا کہ بیوہ خواتین نے علاقہ میں گزر بسر کے لیے بکرا یا دنبہ رکھا ہوتا ہے مگر جب فصل ہی نہیں رہتی تو وہ بیمار ہو کر مر جاتا ہے۔ سیلاب کے بعد جو ان کا واحد روزگار کا ذریعہ ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے بچوں کو روزی کہاں سے لے کر دینی ہے؟ کہاں سے کھانا ہے؟ کہاں سے پہننا ہے؟  ہمارے نزدیکی اسکولوں میں بھی پانی بھرا ہوتا ہے تو ہمارے بچوں کیسے تعلیم حاصل کریں۔ اسکولوں میں میرے قد سے زیادہ پانی ہوتا ہے، ہمارے بچے کہاں جا کر تعلیم حاصل کریں؟ ہم تو سڑک پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ پانی دریا میں ختم ہو جاتا ہے مگر ہمارے یہاں 10-10 فٹ کھڑا ہوتا ہے۔ ہم نے ڈی سی او صاحب سے گزارش کی کہ مہربانی کریں ہمیں پانی نکال دیں ، اے سی صاحب سے بھی گزارش کی پانی نکلوانے کی، ہماری کسی نے نہیں سنی۔ ہم عام شہری ہیں چھوٹے زمیندار ہیں۔ ہم کسی سے کیا لڑ سکتے ہیں۔ ہم کسی سے کیا بحث کر سکتے ہیں؟ ہماری جب چھوڑے لیول (ضلعی سطح ) پر بات نہیں کوئی سنتا تو بڑے لیول (وزیراعلیٰ ) پر بات کون سنے گا۔

فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں

حاجی اللہ یار بھی دریائے چناب کے کنارے موضع دادوآنہ جھنگ کے کاشت کار ہیں۔ حالیہ سیلاب میں ان کے مکان کے چاروں کمرے گر گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے دریا صاف تھے اس میں مچھلی تھی۔ اب چاروں طرف سے اس میں گندگی کے نالے شامل ہو رہے ہیں۔ چنیوٹ، پنڈی بھٹیاں اور دیگر شہروں سے داخل ہونے والے نالوں کی وجہ سے مچھلی ختم ہوگئی ہے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ اب ہم یہاں پریشانی میں بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یونین کونسل کے کونسلر بھی رہے ہیں اب وہ فالج کے مریض ہیں۔ اب میرے لیے بہت مشکلات ہیں اور میں ایک ٹینٹ میں رہتا ہوں۔  ان کا کہنا ہے کہ انہیں کماد کے نقصان کی مد میں صرف 12 ہزار روپے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ایک روپیہ بھی نہیں ملا، حالانکہ اے سی اور پٹواری بھی موقع پر میرا گرا ہو گھر دیکھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طوفان، خشک سالی اور سیلاب، سال 2025 موسم اور ماحولیات کے حوالے سے کیسا رہا؟

انہوں نے پنجاب حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ سرگودھا روڈ جھنگ پر نئے پل کی تعمیر کی وجہ سے بننے والی سڑک کے نیچے پانی کی گزرگاہ بنائی جائے تاکہ سیلاب کی صورت میں اس موضع میں داخل ہونے والا پانی اس راستے واپس جاسکے اور مہینوں کھڑا رہ کو نقصان کا سبب نہ بنے۔

حاجی اللہ یار کا مزید کہنا ہےکہ سیلاب کے دنوں میں خواتین کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں اور انہیں دور دور علاج کے لیے لے جانا پڑتا ہے۔ سیلاب آنے پر کبھی سامان نکال کر باہر لے جاتے ہیں کبھی اندر رکھتے ہیں۔ اب بھی میرا سامان چنڈ بھروانہ میں ایک اسکول  میں پڑا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ 7 ماہ سے وہ جانوروں کے لیے چارہ خرید کر لا رہے ہیں۔ حکومت نے کہا تھا کہ وہ جانوروں کا چارہ، ونڈہ  اور چوکر مفت فراہم کرے گی مگر کچھ نہیں ملا الٹا ہم اس چارے کی خرید کی وجہ سے لاکھوں کے مقروض ہوگئے ہیں۔ کچھ جانور ہم نے کم داموں بیچ دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا ایک بکرا سیلابی پانی میں ڈوب کر مر گیا تھا جس کا اندراج انہوں نے اے سی آفس میں کروایا مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔

دریائے چناب میں شامل ہونے والے سیورج اور انڈسٹری کے گندے پانی کو رپورٹ کرنے کے لیے مقامی صحافیوں نے کئی بار کوشش کی مگر بااثر افراد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باعث وہ اسے رپورٹ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس حوالے سے لکھتے ہیں تو ان کے لیے مقامی سطح پر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

بڑھتا ہوا خطرہ

حسن بن سادات ماہرِ ماحولیات ہیں ان کا  کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی زراعت اور دیہی آبادی کے لیے ایک سنجیدہ اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہیں، جن کے اثرات سب سے زیادہ اُن لوگوں پر پڑ رہے ہیں جو زراعت سے وابستہ ہیں، خصوصاً خواتین اور بچے۔

ان کے مطابق شدید بارشیں، بار بار آنے والے سیلاب اور درجۂ حرارت میں اضافہ زرعی نظام کو متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ بے گھر اور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں خواتین کو صحت، سیکیورٹی اور پرائیویسی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ  سیلاب کے بعد تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اسکولوں کی تباہی اور بحالی کے غیر مساوی عمل کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، جو مستقبل میں سماجی عدم مساوات کو مزید بڑھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ورلڈ بینک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ موسمیاتی آفات کے بعد کم عمری کی شادیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جہاں والدین معاشی دباؤ کے تحت بچیوں کی جلد شادی کو ایک حل سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ عمل مزید سماجی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔

ان کے مطابق دریاؤں کے کٹاؤ کے باعث زرعی زمین کا دریا برد ہونا ایک خاموش بحران ہے، جس سے کسان اپنی زمینوں اور روزگار سے محروم ہو رہے ہیں، اور اس کا براہِ راست اثر خوراک کی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔

حسن بن سادات کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں بہت سی خواتین مویشی پال کر اپنا گزارا کرتی ہیں، لیکن سیلاب کے دوران مویشیوں کا ضائع ہونا یا بیمار ہو جانا خواتین کو بیک وقت بے گھر اور بے روزگار بنا دیتا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کا حل صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ موسمیاتی موافقت پر توجہ دینا ناگزیر ہے، جس میں ریزلینٹ کراپس، کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر اور مقامی سطح پر قابلِ عمل حل شامل ہیں۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنسی اصطلاحات اور پالیسیوں کو مقامی زبان میں بیان کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ کسان، خاص طور پر خواتین، موسمیاتی تبدیلیوں کا مؤثر مقابلہ کر سکیں، کیونکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے جس میں حکومت اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

دریائے جہلم کا فلو

ڈاکٹر بشیر احمد پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم دریائے جہلم کی بات کریں تو مجموعی طور پر اس کا فلو وہی رہا ہے جو ماضی میں آتا رہا ہے۔ یعنی کنونشنل یا نیچرل فلو میں کوئی بڑی یا غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی طرف نہ تو بہت بڑے ڈیمز موجود ہیں اور نہ ہی ایسے بڑے رَن آف اسٹریکچرز ہیں جو فطری بہاؤ میں کوئی بڑی رکاوٹ یا ڈسٹربنس پیدا کر سکیں۔ اسی لیے ہائیڈرو لوجیکل فلو تقریباً ویسا ہی رہا ہے جیسا پہلے تھا، بغیر کسی میجر چینجز کے۔

اگرچہ بعض اوقات جہلم کے فلو میں تھوڑے بہت ایشوز سامنے آئے، لیکن منگلا ڈیم نے ان مسائل کو کافی حد تک مؤثر طریقے سے جذب کر لیا۔ ہم نے دیکھا کہ بعض اوقات بغیر پیشگی نوٹس کے منگلا میں ڈیم فلشنگ کا آپریشن کنڈکٹ کیا گیا۔ اس آپریشن میں تمام گیٹس بند کر کے فرسٹ فلش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ وقت کے لیے نیچے کی طرف فلو نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے، تقریباً زیرو کے قریب۔ اس دوران لوکل لیول پر وقتی ڈسٹربنس ضرور محسوس ہوئی، لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں:سری لنکا سیلاب: پاکستان کی امدادی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے کولمبو پہنچ گئی

ان کا مزید کہنا ہےکہ اگر ہم انڈیا کے تناظر میں بات کریں تو سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی ایگری کلچرل اکانومی تقریباً 80 فیصد آبپاشی پر منحصر ہے، اور جہلم و چناب ہمارے 2 بڑے دریائی نظام ہیں۔ اگر ان دریاؤں کے فلو میں اچانک کمی یا زیادتی ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر ہماری مجموعی زرعی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس سال ابھی تک انڈیا کی جانب سے فلو ریڈکشن یا اضافی پانی چھوڑنے کے حوالے سے کوئی ایسے واضح شواہد سامنے نہیں آئے جن سے یہ ثابت ہو کہ پاکستان کے انفراسٹرکچر یا زراعت کو کوئی بڑا نقصان پہنچا ہو۔ جو ایک بڑا واقعہ سامنے آیا وہ سیلاب کا تھا، لیکن اس کی ایٹری بیوشن ابھی تک کلیئر نہیں ہو سکی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ سیلاب مکمل طور پر انڈین ایکشنز کی وجہ سے تھا یا اس میں کلائمیٹ چینج کا بھی کردار شامل تھا، یا دونوں عوامل نے مل کر یہ صورتحال پیدا کی۔ اس حوالے سے ابھی مزید سائنسی اور تکنیکی تجزیے کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سب سے حساس پہلو کریٹیکل اریگیشن ونڈوز کا ہے۔ اگر انڈیا ان مخصوص اوقات میں پانی روک لیتا ہے تو اس کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ مختلف ماڈل رزلٹس پہلے ہی یہ دکھا چکے ہیں کہ اگر 10 سے 15 فیصد تک پانی کی کمی ہو جائے تو پاکستان کے بعض علاقوں میں واٹر ایویلیبیلٹی اسی تناسب سے کم ہو سکتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر واٹر لونگ کراپس پر پڑتا ہے، خاص طور پر خریف کی فصلوں جیسے کپاس اور چاول، جن میں پیداوار 15 سے 20 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے جب فصل کو مسلسل اور مناسب مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے، اور اسی مرحلے پر پانی کی کمی سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

اگر یہ پریکٹس مسلسل جاری رہے، یعنی یا تو مخصوص اوقات میں پانی روکا جائے یا پھر نارمل فلو میں سے ایک خاص مقدار کو مستقل بنیادوں پر بلاک رکھا جائے، تو اس کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایسی صورت میں مجموعی زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، اور اندازوں کے مطابق اوورآل ایگریکلچرل جی ڈی پی میں 10 سے 15 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ  ہم نے ایک ورسٹ کیس سیناریو بھی ڈیزائن کیا تھا، جس میں یہ فرض کیا گیا کہ پانی کو طویل مدت کے لیے ڈائیورٹ یا مسلسل محدود رکھا جاتا ہے۔ اس سیناریو کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کے اقدامات بغیر کسی ریگولیشن یا کوآرڈینیشن کے جاری رہے تو نہ صرف زراعت بلکہ فوڈ سیکیورٹی اور دیہی معیشت پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زرعی اور لائیو اسٹاک کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ورنہ دریا کنارے آباد دیہی آبادی شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جائے گی، اور غذائی و معاشی بحران بڑھتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp