بلوچستان حکومت نے ماہ رمضان المبارک کے دوران مستحق اور غریب خاندانوں کی معاونت کے لیے خصوصی رمضان پیکج کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں 3 لاکھ 28 ہزار مستحق خاندانوں کو راشن فراہم کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس اقدام کو عوامی فلاح کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر مستحق خاندان کی دہلیز تک رمضان پیکج پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
پیکج کی تقسیم کو شفاف اور کرپشن سے پاک بنانے کے لیے ہر ضلع میں 8 رکنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان کمیٹیوں میں ضلعی انتظامیہ، متعلقہ ادارے اور دیگر نمائندے شامل ہیں تاکہ راشن کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔
اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے وژن کے مطابق اس بار رمضان پیکج کی تقسیم میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نمائندگان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تاکہ وہ راشن پیکج کا خود معائنہ کریں اور اس کی مقدار اور معیار کا جائزہ لیں۔
ان کے مطابق ہر راشن بیگ پر اشیاء کی مکمل تفصیل درج ہے، جس میں آٹا، چینی، چنا اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں، تاکہ کسی بھی کمی یا شکایت کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک صوبے کے 20 سے زائد اضلاع میں راشن پہنچایا جا چکا ہے اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں تقسیم کا عمل جلد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے ذریعے تقسیم کا نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ اجتماعی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور راشن صرف مستحق افراد تک پہنچے۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان نے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں سستے بازار لگانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ یہ بازار ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں قائم کیے جائیں گے، جہاں گوشت، مرغی، راشن، سبزیاں، دودھ اور دہی سمیت دیگر ضروری اشیاء سبسڈی نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
عوامی حلقوں کا موقف ہے کہ بلوچستان میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے تناظر میں رمضان پیکج ایک اہم فلاحی اقدام ہے، جس سے لاکھوں مستحق خاندان مستفید ہو سکیں گے۔ تاہم ماضی میں راشن کی تقسیم کے حوالے سے شفافیت اور مؤثر نگرانی پر سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں، جس کے باعث اس بار حکومت نے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں اور میڈیا نگرانی جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف مستحق افراد کو بروقت ریلیف ملے گا بلکہ حکومتی اقدامات پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔













