زمین پر زندگی 2050 میں، ربع صدی بعد ہمارے شہر کیسے ہوں گے؟

ہفتہ 21 فروری 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اکیسویں صدی کے وسط میں کرہ ارض پر نو ارب افراد کا بوجھ ہوگا۔۔۔ اور ہماری دھرتی ماں چلّا اٹھے گی:

بوجھ وہ آ پڑا ہے کہ اٹھائے نہ بنے!

جب اتنے لوگ زمین پر ہوں گے تو ظاہر ہے کہ ان کی خوراک، رہائش اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے بے تحاشا وسائل کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ رہائش اور ملازمتیں، سائنس کی مہربانیوں سے آسان بھی ہوں گی اور ساتھ ہی پیچیدہ بھی۔ بقول غالب ’سادگی و پرکاری‘ ایک ساتھ تجربے اور مشاہدے میں آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: 100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال

 ایسے میں ہم آج یہ سوالات پوچھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ اُس زمانے میں ہمارے شہر کیسے ہوں گے؟ ہم کیا کیا اور کیسے کھایا کریں گے؟ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہماری زندگی کو کن قدر کی آفات سے دوچار کرے گا؟ کیا تب تک ہم ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پاچکے ہوں گے؟

اس حوالے سے آج یعنی تقریباً ربع صدی پہلے پیشنگوئیاں کرنا، ایک طرح سے قبل از وقت اور ناقابل اعتبار لگتا ہے۔ مگر دنیا کے ایک موقر سائنسی جریدے Smithsonian Magazine نے اس موضوع پر دنیا کے اہم ترین دماغوں سے موقف لے کر ایک سروے تیار کیا ہے، جس کا عنوان Big Think رکھا گیا ہے۔

اس سروے میں دنیا کے عالی دماغ سائنسدانوں، دانشوروں اور مستقبلیات کے ماہروں نے قرار دیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں سرعت سے آنے والی ترقی اور تبدیلیوں اور مصنوعی ذہانت کے ہر شعبے میں استعمال اور رواج سے، جہاں ہمارے شہر ماحول دوست ہوجائیں گے، وہاں ’ذہین‘ روبوٹس ہم انسانوں کے سب سے بڑے مددگار کے طور پر سامنے آئیں گے۔

 مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی سامنے آ سکتا ہے کہ روبوٹس پر انحصار کرنے باعث، عام انسان جسمانی طور پر سست اور کاہل بن جائے گا اور ساتھ ہی ذہنی طور پر بھی وہ نکما بن سکتا ہے۔

طبی تحقیق اور ترقی سے بیماریوں پر قابو پایا جاسکے گا اور انسان کی عمر سو سال سے بڑھ سکتی ہے۔ دھرتی پر آبادی کا دباؤ کم کرنے کے لیے ’اہلِ نظر‘ یعنی سائنس دان، مریخ اور دیگر سیاروں پر ’’تازہ بستیاں‘‘ آباد کریں گے۔ اس طرح خلائی سفر اتنا نارمل ہوجائے گا، جیسے ہم پنڈی سے اسلام آباد آتے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘

سروے Big Think میں سب سے پہلے جس شخصیت نے جوابات دیے ہیں، وہ Rockefeller University میں حیاتیاتی ریاضی کے ماہر جوئل کوہن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2050 میں دنیا کی غالب آبادی بڑے شہروں میں سکونت پذیر ہوگی اور ان کی تعداد تقریباً 750 ارب ہوگی۔

یعنی آج جتنے لوگ شہروں میں رہائش پذیر ہیں، ان سے دگنی تعداد سے زیادہ کا بوجھ شہروں پر ہوگا۔

شہری ترقی اور آبادکاری کے ماہر رچرڈ فلوریڈا کہتے ہیں کہ مدنیت اس طرح تبدّل پذیر ہوگی کہ نظامِ تعلیم ایک طرح سے reinvent کیا جائے گا۔ ریئل اسٹیٹ پر ہماری معیشت کا انحصار کم ہوجائے گا۔

دفاتر یعنی ملازمت کے مقامات اور رہائش گاہوں کے درمیان فاصلے مٹ جائیں گے۔ مطلب یہ کہ جو فرد جہاں رہتا ہوگا، وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرسکے گا، جیسے کورونا کے دنوں میں دنیا تجربہ کرچکی ہے۔

اس کے علاوہ سائنسی ترقی راکٹ کی رفتار اختیار کر جائے گی۔ MIT’s Smart Cities کے ڈائرکٹر بل مشیل کہتے ہیں کہ مستقبل کے شہر سائنس فکشن یا فینٹسی کی طرح کے نہیں ہوں گے، جیسا کہ ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

محسوس یوں ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور معلومات کا بے تحاشا پھیلاؤ، سیلاب اور دیگر عوامل ہمارے طرزِ زندگی میں بہت اہم تبدیلیاں لے آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بروکلین انسٹی ٹیوٹ میں انرجی سیکیورٹی کے ڈائرکٹر چارلس ایبنگر کا خیال ہے کہ اس صدی کے وسط میں ہماری زندگیاں، نام نہاد سمارٹ کارڈ گرڈ (smart card grid) کی محتاج ہوچکی ہوں گی، جس کے تحت ہمارے گھر، کاروبار اور دفتر میں زیرِ استعمال تمام الیکٹرونک، مکینیکل آلات اور اشیا ایک مرکزی ورچوئل سسٹم سے کنٹرول اور آپریٹ ہوں گی۔ ہم اپنے طور پر انھیں اس سمارٹ کارڈ سے استعمال کریں گے۔

نیو یارک ٹائمز کے پبلک ایڈیٹر ڈینیل آرکینٹ کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ انٹرنیٹ روایتی اور سوشل میڈیا کو یکسر تبدیل کر کے میڈیا کے موجودہ تصور ہی کو ختم کردے گا۔

مستقبل کے خبرنگار ادارے عموماً انفرادی اور ذاتی حیثیت میں چلائے جائیں گے یا پھر چند افراد ہی بڑے سے بڑے میڈیا گروپ کے کرتا دھرتا ہوں گے اور اداروں کا کام زیادہ تر ورچوئل ہی ہوگا۔

مگر یہ نئی ٹیکنالوجی ہوگی کیا؟ اس سوال کا جواب دینے والے سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے Information & Innovation Policy Research Center کے وکٹر مایر شون برگ کو امید ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی ہمیں انفوٹینمنٹ کے بے دماغ صارفین کے بجائے مزید بااختیار، سرگرم، حوصلہ افزا افراد بنائے گی۔

 نیویارک یونیورسٹی کے Interactive Communications کے پروفیسر کلے شرکی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اضافی خطرات ہماری موجودہ زندگی، وسعتِ خیالی اور کشادگی کو محدود کر سکتے ہیں۔

مگر کچھ پیشنگوئیاں اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ ماہرِ ماحولیات بل میک کین کہتے ہیں کہ اگر ہم نے عالمی درجہ حرارت پر کنٹرول کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل نہ کیں تو سمندروں کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حسن کیا ہے؟

 فصلوں کی پیداوار بہت کم ہوگی اور میٹھے پانیوں کی ملکیت پر جنگیں ناگزیر ہوں گی۔ لیکن مشہور اوشیانوگرافر سلویا ارل کہتی ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہمارے زمینی ماحول کے دفاع میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا خیال ہے کہ گوگل ارتھ جیسی خدمات ہماری دنیا کے ہر فرد کو بحری محافظ کا روپ دے سکتی ہیں۔

میسا چوئسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر سائمن جانسن مالیاتی محاذ سے متعلق کہتے ہیں کہ جس طرح آج کل ہمیں بیشتر مالیاتی پروڈکٹس ان کے پوشیدہ نقائص بتائے بغیر بیچ دی جاتی ہیں، مستقبل میں اس کا کافی حد تک انسداد ہوگا۔ مینوفیکچرنگ کمپنیوں پر قانون اور دیگر شعبہ جات کی کڑی نظر ہوگی تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔

ماؤنٹ سِنائی اسپتال کے شعبہ Aging کی پروفیسر پیٹریشیا بلوم نے خوش امیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2050 میں دنیا بھر کے افراد صحت کے لحاظ سے بہت بہتر ہوں گے اور ان کی زندگی بھی طویل ہوگی، جس کو وہ پوری طرح انجوائے کریں گے۔ اکثر لوگوں کی عمر سوا سو سال ہوسکتی ہے۔

موذی مرض ایڈز کے معروف معالج ڈاکٹر ڈیوڈ ہو کہتے ہیں کہ رواں صدی کے وسط تک بھی ہم اس مرض سے پوری طرح نجات حاصل نہیں کر پائیں گے، مگر تب تک ہمیں اس وائرس سے متعلق کافی کچھ معلوم ہوچکا ہوگا، جس کے باعث ہم ایسے مریضوں کی زندگی کو کافی آسان کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

طبی جریدے Hello Health کے بانی شریک کار جے پارکنسن کے مطابق، آنے والے تیس سال میں طب کی صنعت کے پاس بہترین مواقع ہوں گے، جن سے مسیحا صفت لوگ مریضوں یا دوسرے الفاظ میں ’دکھی انسانیت‘ کی صحت کو بہتر کرکے ان میں خوشیاں بانٹ سکیں گے۔

مستقبل میں ہماری خوراک کے متعلق ’گرین مارکیٹس‘ کی بانی نینا پلینک بتاتی ہیں کہ ریجنل سطح پر چھوٹے مذبح خانے، مکھن کے کارخانے اور ماکولاتی مراکز ہماری صحت کو عمدہ بناتے ہوئے زندگی کو مقامی طور پر آسان کردیں گے۔

 نیویارک ٹائمز کے کوکنگ سے متعلق کالم نویس مارک بٹمین بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ 2050 کے دور میں لوگ زیادہ تر ڈبہ بند خوراک کھا رہے ہوں گے۔ اگر تازہ غذا کے شوقین چاہیں گے تو انھیں تازہ سبزیاں اور پھل اپنے ہی علاقے کی زمینوں سے روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست مہیا کیے جائیں گے اور انہیں سبزی منڈی یا مارکیٹ تک جانے کی زحمت نہیں ہوگی۔

آئندہ وقت کی فصلوں کے حوالے سے امریکا میں کسانوں کی تنظیم کے ایک نمائندے گلین رابرٹس کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں بود و باش رکھنے والے بیشتر افراد، زمین کاشت کر کے غلہ، دالیں، سبزیاں اور پھل شہری آبادیوں کو بھجوانا اپنی ’اخلاقی ذمہ داری‘ سمجھیں گے۔

اور ہماری ثقافت کے رنگ کیسے ہوں گے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی نصف صدی تک بھی امریکا میں نسل پرستی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ NAACP کے صدر بنجامن جیلس کہتے ہیں کہ آنے والے تین عشروں میں نسل پرستی کا کلی خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا اور ناامیدی کی بات یہ بھی ہے کہ اس عرصے میں طبقاتی فرق بھی بہت بڑھ جائے گا۔

مورخ اور سماجی ماہر جوآن ویلیش اسکاٹ خبردار کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد جس طرح امریکا اور یورپ میں بڑھ رہی ہے، اس سے خدشہ ہے کہ آنے والی نصف صدی میں اس خطے کے خدو خال بدلنا شروع ہوجائیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک مسلم پناہ گیروں کے مسئلے پر ابھی سے غور و فکر کر کے اس کا حل نکالیں۔ خاص طور پر جن ملکوں سے یہ لوگ آ رہے ہیں، وہاں کے حالات پرسکون بنانے پر توجہ دی جائے۔۔۔ورنہ اگلی صدی میں بھی نسلی فسادات اور انتہاپسندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس طرح ہماری دنیا کی آج سے ربع صدی بعد شکل کا ایک خاکہ سامنے آتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟