اسلام آباد میں ایم ٹیگ رجسٹریشن کا عمل جاری، 2 لاکھ 30 ہزار گاڑیاں رجسٹرڈ

ہفتہ 21 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں گاڑیوں کی ایم ٹیگ رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور اب تک 2 لاکھ 30 ہزار 650 گاڑیوں پر ایم ٹیگ نصب کیا جا چکے ہیں۔

دارالحکومت میں گزشتہ روز 1,357 گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے گئے جبکہ رمضان المبارک کے دوران بھی تمام رجسٹریشن سینٹرز فعال رہیں گے تاکہ شہری با آسانی اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ حاصل کر سکیں۔

 یہ بھی پڑھیں: موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ، کب سے آغاز ہوگا؟

محکمہ ایکسائز کی ٹیموں کی کارروائی کے دوران بغیر ایم ٹیگ گاڑیاں تحویل میں لے کر متعلقہ تھانوں میں منتقل کی جا رہی ہیں۔

شہر کی مرکزی شاہراہوں اور چیک پوائنٹس پر نصب جدید ریڈرز سے گاڑیوں کی مسلسل ایم ٹیگ اسکیننگ بھی جاری ہے، تاکہ بغیر ٹیگ گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکے۔

  مزید پڑھیں: اسلام آباد میں ایم ٹیگ ریڈرز کی تنصیب مکمل، خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے ہوں گے

ڈی جی ایکسائز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قریبی سینٹرز سے جلد از جلد اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ نصب کرائیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شادی کا جھانسہ، نازیبا ویڈیوز سے بلیک میلنگ، کراچی میں ملزم گرفتار

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: فیڈرل سروس ٹریبیونل کا حکم کالعدم، ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال

یوگنڈا سے واپس آنے والی سفارتکار کی اہلیہ میں ایبولا وائرس کی تصدیق، نائیجیریا میں 44 افراد زیرِ نگرانی

13سالہ لڑکی کے قتل کی کہانی پر مبنی اطالوی فلم نیٹ فلکس کی غیر انگریزی فلموں میں سرفہرست

سپریم کورٹ نے ریلوے افسران کی سنیارٹی سے متعلق ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟