سندھ اسمبلی: نئے صوبوں کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور، کراچی سندھ کا جدا نہ ہونے والا حصہ قرار

ہفتہ 21 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ اسمبلی نے کراچی کو سندھ کا لازمی اور جدا نہ ہونے والا حصہ قرار دیتے ہوئے نئے صوبے بنانے کی کوششوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔

یہ قرارداد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے مخالفت کی۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط ختم ہو سکتی ہے، اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس اسمبلی کی طرف سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبے کے طور پر بنانے کی کسی بھی سازش کی یکسر مذمت اور مخالفت کی جاتی ہے۔

وزیراعلیٰ کے اس اقدام کے پس منظر میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا بار بار مطالبہ رہا ہے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ بنایا جائے اور مرکزی حکومت مداخلت کرے۔

قرارداد میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا کہ وہ تقسیم کی باتیں یا ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جو صوبائی اتحاد اور قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈالیں۔

اس میں کہا گیا کہ سندھ کی یکجہتی، علاقائی سالمیت اور تاریخی شناخت ہمارے آباؤ اجداد کی میراث ہیں اور انہیں آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے تحفظ دیا جائے گا۔

قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سندھ اسمبلی تمام پارٹیوں سے بالاتر ہو کر سندھ کی سالمیت، وقار اور ناقابل تقسیم وراثت کے دفاع میں متحد ہے۔

قرارداد کی حمایت میں جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق اور پاکستان تحریک انصاف کے شبیر قریشی اور سجاد سومرو شامل تھے، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے خطاب میں کہاکہ یہ قرارداد آئین کے منافی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ قرارداد آئین کے مطابق ہے اور مخالفین سے چیلنج کیا کہ وہ ایک بھی آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کریں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کی سابقہ پوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ 2019 میں بھی سندھ اسمبلی نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی تھی اور اس وقت ایم کیو ایم نے حمایت کی تھی۔

وزیر اعلیٰ کی وضاحت اور ردعمل

وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کراچی کو کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی سندھ کا لازمی حصہ ہے اور سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ جو بھی شخص پاکستان پر یقین رکھتا ہے، وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کسی بھی نئے صوبے کے قیام کی کوشش روکنے میں فیصلہ کن ہوگی۔

سندھ کی تاریخی حیثیت

قرارداد میں سندھ کی تاریخی حیثیت بھی بیان کی گئی ہے، جس میں کہا گیا کہ کراچی کی تعمیر میں سندھ کے ہر علاقے کے لوگوں نے حصہ ڈالا، اور کراچی کو پاکستان کا اقتصادی مرکز بنایا۔

قرارداد میں خبردار کیا گیا کہ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبے میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے نہ صرف صوبائی یکجہتی خطرے میں پڑے گی بلکہ قومی ہم آہنگی اور وفاقی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچے گا۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان

یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ 1955 میں ون یونٹ کے نفاذ کے خلاف سندھ کے لوگوں نے مزاحمت کی اور 1970 میں سندھ کی بحالی اس عزم کا ثبوت ہے کہ اس کے لوگ اپنی صوبائی شناخت اور وراثت کا دفاع کریں گے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، جس کی شناخت، زبان اور ثقافت جدید سیاسی حدود سے پہلے وجود میں آئیں اور مختلف حملوں، سلطنتوں اور نوآبادیاتی حکمرانی کے باوجود برقرار رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟