میکسیکو کے بدنام ترین منشیات فروش سرغناؤں میں شمار ہونے والے نیمیسيو اوسیگیرا سروینٹس المعروف ’ایل منچو‘ اتوار کو ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہو گیا۔
60 سالہ اوسیگیرا سروینٹس طاقتور جرائم پیشہ تنظیم جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل (سی جے این جی) کے سربراہ تھے۔ میکسیکو کی وزارتِ دفاع کے مطابق میکسیکن آرمی کی خصوصی فورسز نے ریاست جالیسکو میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے کے ایک قصبے میں کارروائی کی، جہاں ایل منچو زخمی ہونے کے بعد حراست میں دم توڑ گیا۔
حکام کے مطابق اس کی لاش اتوار کی دوپہر سخت سکیورٹی میں میکسیکو شہر منتقل کی گئی۔ قافلے کے ہمراہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں امریکی فوج کی قیادت میں قائم ایک نئی ٹاسک فورس نے انٹیلی جنس معاونت فراہم کی، جبکہ زمینی آپریشن میکسیکو کی فورسز نے انجام دیا۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ امریکا نے خفیہ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس کامیاب کارروائی پر میکسیکو کی فوج کے تعاون اور مؤثر عملدرآمد کو سراہتی ہے۔
جوابی تشدد اور ملک گیر خوف و ہراس
ایل منچو کی ہلاکت کی خبر سامنے آتے ہی کارٹیل کے مسلح افراد نے مختلف علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں شروع کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق جلتی گاڑیوں کے ذریعے شاہراہیں بند کی گئیں اور نصف درجن سے زائد ریاستوں میں کاروباری مراکز کو نذرِ آتش کیا گیا، جس کے باعث ملک کے کئی حصے عارضی طور پر مفلوج ہو گئے۔ تاہم کسی شہری ہلاکت کی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔
ریاست جالیسکو کے معروف ساحلی سیاحتی مقام پوریٹو والرٹا میں خوف و ہراس کی فضا دیکھنے میں آئی۔ سوشل میڈیا پر سیاحوں نے علاقے کو ’جنگی زون‘ قرار دیا، جبکہ خلیج کے اطراف سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
فضائی آپریشنز معطل
صورتحال کے پیش نظر متعدد ایئر لائنز نے علاقے میں اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں۔
ماہرین کے مطابق ایل منچو کی ہلاکت میکسیکو میں منشیات کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں طاقت کے خلا اور مزید تشدد کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔














