اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین کا کہنا ہے کہ کچھ رپورٹس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے درکار پانی کی مقدار بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی ہے۔
اے آئی سمٹ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آن لائن دعوے کہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر اے آئی نظام ہر سوال کے لیے کئی گیلنز پانی استعمال کرتے ہیں، غلط اور بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کے پس پردہ اے آئی ٹیکنالوجی بنانے کے لیے پانی کا بےتحاشہ استعمال کیوں کیا گیا؟
آلٹ مین نے وضاحت کی کہ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز کو کمپیوٹر سسٹمز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، نئی ٹیکنالوجی اس ضرورت کو کم کر رہی ہے اور کچھ ڈیٹا سینٹرز اب پانی پر مکمل طور پر انحصار نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، ’پانی کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں، تاہم توانائی کا استعمال ابھی بھی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت مجموعی طور پر بہت زیادہ توانائی استعمال کرتی ہے، لہٰذا ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ہوا، شمسی توانائی یا جوہری توانائی کی طرف جانا چاہیے۔
آلٹ مین نے اے آئی کا موازنہ انسانوں سے بھی کیا اور کہا کہ ایک انسان کو سوچنا سکھانے میں سالوں کی محنت، توانائی، خوراک، تعلیم اور دیگر وسائل درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’منصفانہ موازنہ یہ ہے کہ اے آئی کو ایک سوال کا جواب دینے میں کتنی توانائی لگتی ہے جب اسے تربیت دے دی جائے، اور اس معاملے میں اے آئی پہلے ہی انسانوں کے برابر ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
تاہم اس معاملے پر سب کا یہی نظریہ نہیں ہے۔ ژو ہو کارپوریشن کے شریک بانی سری دھر ویمبو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا انسانی ذہانت سے موازنہ کرنا خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ مختلف قسم کی ٹیکنالوجی کو انسانوں کی طرح نہیں پرکھنا چاہیے۔
دنیا کی حکومتیں اور کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز بنانے پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہیں۔ کچھ مقامی کمیونٹیز نے ایسے منصوبوں کی مخالفت کی ہے، کیونکہ انہیں زیادہ بجلی کے اخراجات اور مقامی توانائی کے وسائل پر دباؤ کا خدشہ ہے۔













