پاکستان اور انگلینڈ سپر 8 مرحلے کے دوسرے میچ میں مدمقابل ہوں گے، جو سیمی فائنل کے امکانات کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
کینڈی کے پالی کیلے انٹرنیشنل اسٹیدیم میں میچ کے حالات بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، کیونکہ یہ پچ وقت کے ساتھ گھومنے اور گرپ دینے والی مانی جاتی ہے، جو پاکستان کے اسپن باؤلرز کے لیے سازگار ہے۔

پاکستان کی اسپن لائن اپ مخالف ٹیموں کو درمیانی اوورز میں دباؤ میں ڈال سکتی ہے، اور ٹیم حکمت عملی میں اس عنصر کو بھرپور استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: بھارتی شہری نے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ناقص انتظامات اور گندگی کا پول کھول دیا، ویڈیو وائرل
انگلینڈ نے سپر 8 کا آغاز سری لنکا کے خلاف مضبوط انداز میں کیا اور گروپ کی سربراہی سنبھال رکھی ہے، جبکہ پاکستان اور نیوزی لینڈ ایک، ایک پوائنٹ کے ساتھ پیچھے ہیں۔ اس لیے آج کا میچ محض گروپ میچ نہیں بلکہ سیمی فائنل تک رسائی کی دوڑ کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر اوپنر صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ اسپن ہمارا اہم ہتھیار ہوگی۔ حالات صبر اور ہوشیاری کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم چیلنج کے لیے تیار ہیں۔
پاکستانی کیمپ میں اس میچ کو 2022 کے ٹی20 ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کی فتح کا ازالہ کرنے کا موقع بھی سمجھا جا رہا ہے۔ انگلینڈ کے لیے جوس بٹلر، ول جیکس اور عدیل رشید جبکہ پاکستان کے لیے عثمان طارق، صاحبزادہ فرحان اور محمد نواز کلیدی کھلاڑی ہوں گے۔
کینڈی میں رات کے وقت کھیلنے کے ساتھ، اسپن باؤلنگ پاکستان کے لیے دوبارہ عروج کا راستہ کھول سکتی ہے یا انگلینڈ اپنے زبردست فارم کا تسلسل برقرار رکھ سکتا ہے۔

جنوبی افریقہ کی بھارت کے خلاف بڑی کامیابی کے بعد ٹورنامنٹ مزید کھل گیا ہے، تاہم انگلینڈ اور پاکستان دونوں اب تک مکمل طور پر فیصلہ کن کارکردگی پیش نہیں کر سکے۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: سپر ایٹ مرحلے میں سیمی فائنل کی دوڑ، ٹیموں کی پوزیشن واضح
انگلینڈ کو برتری کیوں؟
انگلینڈ نے سپر ایٹ کے پہلے میچ میں سری لنکا کو 51 رنز سے شکست دی، اگرچہ 146/9 کا مجموعہ زیادہ مضبوط نہیں تھا۔ فل سالٹ کی نصف سینچری اور ول جیکس کی آل راؤنڈ کارکردگی نے فرق ڈالا۔
پالی کیلے کے میدان پر انگلینڈ گزشتہ ایک ماہ میں 4 میچ جیت چکا ہے، جس میں سری لنکا کے خلاف سیریز بھی شامل ہے۔ اس اعتبار سے یہ میدان ان کے لیے دوسرے ہوم گراؤنڈ جیسا بن چکا ہے۔

کپتان جوس بٹلر اب تک فارم میں نہیں آ سکے۔ 5 اننگز میں صرف 60 رنز ان کے معیار کے مطابق نہیں۔ انگلینڈ کو ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے ان کی بڑی اننگز کی ضرورت ہے۔
پاکستان پر دباؤ کیوں؟
پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا، جس کے باعث صرف ایک پوائنٹ ملا۔ اب اگر پاکستان یہ میچ ہارتا ہے تو سیمی فائنل کی امیدیں قریباً ختم ہو سکتی ہیں۔
صاحبزادہ فرحان 220 رنز کے ساتھ ٹیم کے نمایاں بیٹر ہیں، مگر بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ تنقید کی زد میں ہے۔ شاہین شاہ آفریدی کو بھارت کے خلاف مہنگا ثابت ہونے پر ٹیم سے باہر بٹھایا گیا تھا۔ ایسے میں سلمان مرزا پر بطور مرکزی فاسٹ باؤلر ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔
More #T20WorldCup intrigue as Pakistan meet England in Kandy 👊
Tournament broadcast details 📲 https://t.co/NPykWM7qqY pic.twitter.com/yhHKPvY8Y8
— ICC (@ICC) February 24, 2026
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان باہر ہوا تو کیا تب بھی سیمی فائنل کولمبو میں کھیلا جاسکتا ہے؟
پاکستان کی طاقت اس کی اسپن باؤلنگ مانی جا رہی ہے، جس میں محمد نواز، عثمان طارق، شاداب خان اور دیگر آپشنز شامل ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کو امید ہے کہ اسپنرز انگلینڈ کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔
پچ اور موسم
یہ میچ نئی پچ پر کھیلا جائے گا جو بیٹنگ کے لیے نسبتاً بہتر سمجھی جا رہی ہے۔ موسم صاف اور درجہ حرارت قریباً 31 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیش گوئی ہے۔
پاک انگلینڈ مقابلے، اہم نکات
ٹی20 ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف اپنے تمام تینوں میچ جیتے ہیں۔
انگلینڈ نے حالیہ 5 ٹی20 مقابلوں میں بھی پاکستان کو شکست دی ہے۔
ول جیکس اس ورلڈ کپ میں 3 بار میچ کے بہترین کھلاڑی قرار دیے جا چکے ہیں۔
Keeping sharp in Kandy, England look ahead to their Pakistan #T20WorldCup challenge 👀
Tournament broadcast details 👉 https://t.co/NPykWM7qqY pic.twitter.com/8aefvXncVD
— ICC (@ICC) February 24, 2026
انگلینڈ کے پاس اعتماد اور حالات کا فائدہ ہے، مگر پاکستان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ آج کا مقابلہ گروپ 2 کی سیمی فائنل دوڑ کا رخ متعین کر سکتا ہے۔














