علاقائی و عالمی تنازعات میں سعودی عرب کا سفارتی کردار، 1989 سے 2026 تک اہم ثالثی اقدامات

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران علاقائی اور عالمی سطح پر متعدد سنگین تنازعات میں مصالحت، ثالثی اور بحران کم کرنے کے لیے نمایاں سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

لبنان کی خانہ جنگی کے خاتمے سے لے کر خلیجی بحران کے حل، روس۔یوکرین جنگ میں قیدیوں کی رہائی اور حالیہ افغانستان۔پاکستان کشیدگی تک، مملکت نے مختلف ادوار میں متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے:   سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پورے خطے کے امن کی ضمانت ہیں، ترک صدر اردوان

ذیل میں تاریخی ترتیب کے ساتھ ان اہم مواقع کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

1989: لبنان (معاہدہ طائف)

11 اکتوبر 1989 کو سعودی عرب کے شہر طائف میں لبنانی رہنماؤں کو جمع کیا گیا۔ 1975 سے جاری لبنان کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی اس سفارتی کوشش کے نتیجے میں معاہدہ طائف طے پایا، جس نے خانہ جنگی کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔

1990 کی دہائی: افغانستان (مجاہدین کے درمیان مفاہمت کی کوششیں)

1989 میں سوویت انخلا کے بعد افغان گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: تھائی لینڈ کمبوڈیا جنگ بندی معاہدہ، سعودی عرب کا خیر مقدم

اس تناظر میں سعودی عرب نے مختلف افغان رہنماؤں کو بات چیت پر آمادہ کرنے اور داخلی تصادم روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔

2002: مشرقِ وسطیٰ (عرب امن اقدام)

28 مارچ 2002 کو سعودی عرب نے فلسطین۔اسرائیل تنازع اور خطے میں عدم استحکام کے پیش نظر عرب امن اقدام پیش کیا۔ اس منصوبے میں مکمل امن کے بدلے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کی تجویز دی گئی، جسے عرب لیگ نے منظور کیا۔

2007: فلسطین (معاہدہ مکہ)

8 فروری 2007 کو مکہ مکرمہ میں فتح اور حماس کے درمیان جاری مسلح جھڑپوں کے خاتمے کے لیے مصالحت کرائی گئی۔ اس عمل کے نتیجے میں قومی اتحاد حکومت کی تشکیل پر اتفاق ہوا۔

2018: افریقہ کا قرن (اریٹیریا اور ایتھوپیا)

16 ستمبر 2018 کو جدہ میں اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان امن معاہدے کی میزبانی کی گئی۔ یہ اقدام سرحدی تنازع اور طویل کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوا اور دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہوئے۔

2021: خلیجی بحران (اعلانِ العلا)

5 جنوری 2021 کو العلا سربراہی اجلاس کی میزبانی کی گئی۔ 2017 سے جاری خلیجی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں اس اقدام کے ذریعے خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات بحال کرائے گئے۔

2022: روس۔یوکرین جنگ (قیدیوں کی رہائی میں ثالثی)

22 ستمبر 2022 کو سعودی عرب نے روس۔یوکرین جنگ کے دوران قیدیوں کے تبادلے میں سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں بعض افراد کی رہائی ممکن بنائی گئی۔

2023: سوڈان (جدہ مذاکرات)

مئی 2023 میں سوڈانی فوج اور دیگر فریقین کے درمیان مسلح تصادم کے تناظر میں جدہ میں مذاکرات کی میزبانی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم

ان مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی اور انسانی امداد کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔

2026: افغانستان۔پاکستان کشیدگی

فروری 2026 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستانی اہلکاروں کی گرفتاری کے معاملے پر سعودی عرب نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس سفارتی کوشش کے نتیجے میں تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی ممکن ہوئی اور کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟