سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مریخ سے پانی کے تیزی سے ختم ہونے کی بڑی وجہ علاقائی گرد و غبار کے طوفان ہیں، جو پانی کو خلا میں خارج کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
2026 کے اوائل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مریخ کبھی دریاؤں، نہروں اور پانی سے بھرپور معدنیات والا متحرک سیارہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک خشک اور بنجر صحرا میں تبدیل ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے پیچھے گرد و غبار کے طوفانوں کا کردار پہلے سمجھے جانے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے مریخ پر پانی کے غائب ہونے کا نیا سبب دریافت کر لیا
تحقیق، جو سائنسی جریدے کمیونیکیشن ارتھ اینڈ انوائنمنٹ میں شائع ہوئی، میں بتایا گیا کہ صرف بڑے عالمی طوفان ہی نہیں بلکہ علاقائی سطح کے طوفان بھی مریخ کے ماحول میں پانی کو اوپری سطح تک پہنچاتے ہیں، جہاں یہ ٹوٹ کر ہائیڈروجن میں تبدیل ہو جاتا ہے اور پھر خلا میں خارج ہو جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ ایسے طوفانوں کے دوران مریخ کے ماحول کی بیرونی حد پر ہائیڈروجن کی مقدار معمول سے 2.5 گنا تک بڑھ گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پانی کے مالیکیول ٹوٹ کر خلا میں جا رہے ہیں۔
شوہی آوکی، جو اس تحقیق کے شریک سربراہ اور ٹوکیو یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس اہم سوال کے حل میں ایک بڑی پیش رفت ہیں کہ مریخ اربوں سالوں میں اپنا پانی کیسے کھوتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: زمین پر زندگی 2050 میں، ربع صدی بعد ہمارے شہر کیسے ہوں گے؟
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ حتیٰ کہ کم مدت کے مگر شدید طوفان بھی مریخ کے ماحولیاتی ارتقا اور پانی کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جس سے اس سرخ سیارے کے خشک صحرا میں تبدیل ہونے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔













