پاکستان نے افغان سرزمین پر پاکستان مخالف دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان میں سرگرم دہشتگرد پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں۔
تازہ ترین کارروائی میں پاکستان نے افغانستان کے 3 مشرقی صوبوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 80 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ، ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج کے ہاتھ لگ گیا
افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائی پر احتجاج کیا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان سے ہو رہی ہے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس شواہد افغان طالبان حکومت کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، جہاں سے پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں طالبان حکومت کی حمایت کے بغیر افغانستان سے کارروائیاں نہیں کر سکتیں اور مبینہ طور پر انہیں افغان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔
افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں کہاں ہیں؟
دفاعی تجزیہ کاروں اور افغان امور کے ماہرین کے مطابق افغانستان اس وقت دہشتگردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں مختلف کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں اور پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہی ہیں۔
سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر مشتاق یوسف زئی کے مطابق افغانستان میں بعض تنظیموں کو طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مخالف کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان میں نہ صرف موجود ہے بلکہ مکمل طور پر فعال بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مختلف فوجی آپریشنز کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے تھے۔ مالاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کے وقت ملا فضل اللہ اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان فرار ہو گیا تھا، اور اس کے ساتھی آج بھی وہاں موجود ہیں اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان اس وقت دہشتگردوں کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ ہے اور دہشتگرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں، جو دوحہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حکام کے مطابق ٹی ٹی پی کابل سمیت کئی افغان صوبوں میں سرگرم ہے، تاہم پاکستان سے ملحقہ صوبوں میں اس کی موجودگی زیادہ مضبوط ہے۔ کنڑ، ننگرہار، خوست، پکتیکا، قندہار، ہلمند اور دیگر علاقوں میں ان کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق پکتیکا کے برمل ضلع اور قندہار کے اسپین بولدک اور شاہ ولی کوٹ جیسے علاقوں میں ٹی ٹی پی کے اہم مراکز قائم ہیں۔
افغان طالبان حکومت ٹھوس شواہد کے باوجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی اور ان کی پشت پناہی سے انکار کرتی رہی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے رواں سال اپنی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ میں افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملی کارروائیاں کررہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان بدستور ٹی ٹی پی کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور وہاں موجود دہشتگرد سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے خاص طور پر افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں قائم ہیں، جن میں کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا شامل ہیں۔ یہ تمام علاقے پاکستان سے متصل سرحد پر واقع ہیں، جہاں دشوار گزار پہاڑی علاقے عسکریت پسندوں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے لیے مشکلات کم ہوئیں اور انہیں سہولتیں حاصل ہوئیں۔
ٹی ٹی پی کی نئی سرگرمیاں، شمالی افغانستان میں مضبوطی
مشتاق یوسفزئی کے مطابق ٹی ٹی پی پاکستان سے متصل افغان صوبوں میں سرگرم ہے، جبکہ کچھ عرصہ قبل وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں سے بڑی تعداد میں ٹی ٹی پی کے دہشتگرد کنڑ، نورستان اور بدخشاں منتقل ہوئے ہیں۔
ان تینوں صوبوں میں پہلے سے موجود وہ ٹی ٹی پی عسکریت پسند بھی شامل ہیں جو آپریشن سوات کے دوران ملا فضل اللہ کے ساتھ یہاں آئے تھے، اور ان کی مضبوط پناہ گاہیں اب بھی موجود ہیں۔
بارڈر کے قریب کون سے افغان علاقے محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
سینیئر صحافی منظور علی کے مطابق ٹی ٹی پی انہی افغان علاقوں میں مضبوط ہے جو پاکستان کے شورش زدہ اضلاع سے متصل ہیں۔
ان کے مطابق وزیرستان، خیبر، باجوڑ، مہمند، چترال اور دیگر سرحدی علاقوں سے ملحقہ افغان علاقوں میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں قائم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چترال سے ملحقہ کنڑ میں طالبان بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے اہم رہنماؤں کی پناہ گاہیں بھی وہیں ہیں۔ 2018 میں ٹی ٹی پی کے سابق امیر ملا فضل اللہ بھی کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا، کنڑ سے چترال بارڈر پر متعدد حملے بھی کیے جا چکے ہیں۔
ٹی ٹی پی کی بھرتی افغانستان میں کیوں ہو رہی ہے؟
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی افغانستان سے منظم کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق جو لوگ افغان طالبان کے لیے جنگ لڑتے رہے، حکومت بننے کے بعد وہ بیروزگار ہو گئے اور اب ٹی ٹی پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ چونکہ ٹی ٹی پی سے افغان طالبان کو کوئی براہِ راست خطرہ نہیں، اس لیے وہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی متعدد دہشتگردی کارروائیوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد تفتیش کے دوران سامنے آ چکے ہیں۔
افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟
سینیئر صحافی و تجزیہ کار محمود جان بابر کے مطابق افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ٹی ٹی پی والے ان کے جہادی ساتھی ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، ٹھوس شواہد موجود ہیں: علی امین گنڈا پور
ان کے مطابق طالبان حکومت اپنے دیرینہ اتحادیوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرے گی، کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں اندرونی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محمود جان بابر کے مطابق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان نظریاتی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں، اسی لیے طالبان حکومت ان کے خلاف کسی بڑے اقدام سے گریز کرتی ہے۔












