ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

بدھ 25 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران چین کے ساتھ اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ممکنہ حملوں سے قبل ایرانی ساحل کے قریب بڑی بحری قوت تعینات کر رہا ہے۔

چین ساختہ سی ایم 302 میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے، تاہم ترسیل کی تاریخ طے نہیں ہوئی، یہ سپرسونک میزائل تقریباً 290 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نچلی پرواز اور تیز رفتار کے ذریعے جہازوں کے دفاعی نظام سے بچنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

اسلحہ ماہرین کے مطابق ان کی تعیناتی ایران کی حملہ آور صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی اور خطے میں امریکی بحری افواج کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

مذاکرات سے باخبر افراد کے مطابق، جن میں 3 ایرانی حکام اور 3 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، یہ مذاکرات کم از کم 2 سال قبل شروع ہوئے تھے لیکن جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد ان میں تیزی آ گئی۔

گزشتہ موسمِ گرما میں جب بات چیت آخری مراحل میں داخل ہوئی تو ایران کے اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام چین گئے، جن میں ایران کے نائب وزیر دفاع مسعود اورعی بھی شامل تھے، ان کے دورے کی پہلے اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔

اسرائیلی انٹیلیجنس کے سابق افسر اور انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے سینیئر محقق ڈینی سیٹرینووچ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جہازوں کو نشانہ بنانے کی سپرسونک صلاحیت آ گئی تو یہ ’کھیل بدل دینے والا‘ اقدام ہوگا کیونکہ ان میزائلوں کو روکنا انتہائی مشکل ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی اور سیکیورٹی معاہدے موجود ہیں اور اب ان سے فائدہ اٹھانے کا مناسب وقت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا پھر ہمیں پچھلی بار کی طرح سخت اقدام کرنا ہوگا، ان کے اس بیان سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

یہ میزائل چین کی جانب سے ایران کو منتقل کیے جانے والے جدید ترین عسکری سازوسامان میں شامل ہوں گے اور 2006 میں عائد اقوام متحدہ کے اسلحہ پابندیوں کی خلاف ورزی ہوں گے۔ یہ پابندیاں 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت معطل کی گئی تھیں لیکن گزشتہ ستمبر دوبارہ نافذ کر دی گئیں۔

پابندیاں اور علاقائی تناؤ

ممکنہ فروخت چین اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے فوجی تعلقات کو ظاہر کرتی ہے، ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ یہ اقدام ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کی امریکی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے اور خطے میں چین کے بڑھتے کردار کی علامت ہوگا۔

چین، ایران اور روس ہر سال مشترکہ بحری مشقیں کرتے ہیں،گزشتہ سال امریکی محکمہ خزانہ نے چند چینی اداروں پر ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے کیمیائی مواد فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم چین نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

ستمبر میں بیجنگ میں فوجی پریڈ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دلایا کہ چین ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔

کمزور ہوتا اسلحہ ذخیرہ

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق پیٹر ویزمین کے مطابق گزشتہ سال کی جنگ کے بعد ایران کا اسلحہ ذخیرہ کمزور ہو چکا ہے اور سی ایم 302 کی خریداری ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔

چین کی سرکاری کمپنی چائنا ایرواسپیس سائنس اینڈ انڈسٹری کارپوریشن سی ایم 302 کو دنیا کا بہترین اینٹی شپ میزائل قرار دیتی ہے، جو طیارہ بردار بحری جہاز یا ڈسٹرائر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این کا دعویٰ

اس نظام کو بحری جہازوں، طیاروں یا زمینی موبائل پلیٹ فارم پر نصب کیا جا سکتا ہے اور یہ زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران چینی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل مین پیڈز، اینٹی بیلسٹک اور اینٹی سیٹلائٹ ہتھیاروں کے حصول پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔

1980 کی دہائی میں چین ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک تھا، تاہم 1990 کی دہائی کے اواخر میں بین الاقوامی دباؤ کے باعث بڑے پیمانے پر اسلحہ کی منتقلی کم ہو گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں امریکی حکام نے چینی کمپنیوں پر ایران کو میزائل سے متعلق مواد فراہم کرنے کے الزامات لگائے ہیں، لیکن مکمل میزائل نظام فراہم کرنے کا کھلے عام الزام عائد نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟