فرانس اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ فرانسیسی حکام نے امریکی سفیر کی سرکاری اہلکاروں تک براہِ راست رسائی محدود کر دی۔
یہ اقدام پیرس میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ایک متنازع بیان کے بعد سامنے آیا جو ایک دائیں بازو کے کارکن کے قتل سے متعلق تھا۔
تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی سفارتخانے نے فرانسیسی دائیں بازو کے کارکن کوئنٹن دیرانک کی ہلاکت پر تبصرہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے بعد فرانس میں بھی اسرائیلی وزیر خزانہ کو خفت کا سامنا
دیرانک کو مبینہ طور پر سخت گیر بائیں بازو کے کارکنوں کے ساتھ تصادم کے دوران تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ فرانس میں عوامی بحث کا سبب بنا اور بعض حلقوں نے اسے نظریاتی تشدد کے بڑھتے رجحان کے تناظر میں نہایت حساس معاملہ قرار دیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے امریکی سفیر چارلس کشنر کو طلب کیا تاکہ وہ اس بیان کی وضاحت پیش کریں۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون
تاہم سفیر مقررہ ملاقات میں شریک نہیں ہوئے، جس پر فرانسیسی حکام نے ان کی حکومتی نمائندوں تک براہِ راست رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے کے مطابق وزارتِ خارجہ نے یہ قدم سفارتی آداب کی بنیادی توقعات پوری نہ ہونے کے باعث اٹھایا۔
حکام نے واضح کیا کہ امریکی سفیر اپنی سفارتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، تاہم معاملہ حل ہونے تک انہیں فرانسیسی حکومت کے اراکین سے براہِ راست ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: امریکا کے بغیر یورپ کا دفاع ایک خواب، نیٹو سربراہ
قبل ازیں امریکی سفارت خانے اور امریکی محکمہ خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے شعبے نے بائیں بازو کی شدت پسندی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے واقعات کو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
فرانس میں اس بیان کو داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: فرانس کا گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولنے کا اعلان، کیا یہ امریکا کے لیے کوئی ’خاموش پیغام‘ ہے؟
بعد ازاں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بیریٹ نے کہا کہ اگر امریکی سفیر طلبی پر عدم حاضری کی وضاحت پیش کریں اور وزارتِ خارجہ کے ساتھ بات چیت کریں تو انہیں مکمل سفارتی رسائی بحال کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔












