وفاقی آئینی عدالت میں جوڈیشل الاؤنس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دلچسپ صورتحال سامنے آئی۔ جسٹس عامر فاروق نے وکلا کو تنبیہ کی کہ وہ دور سے فائل دکھا رہے ہیں اور کہا کہ میری نظر 6/6 نہیں ہے۔ مزید کہا کہ نظر 6/6 بھی ہوتی تب بھی دور سے پڑھنا ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج
انہوں نے مزید کہا کہ وکلا دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے دور سے پڑھ سکتے ہوں گے، مگر مجھ سے نہیں پڑھا جائے گا۔
جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ جوڈیشل الاؤنس کے کیسز کئی کیٹیگریز پر مشتمل ہیں اور ایک سماعت میں اتنے طویل کیس کا فیصلہ ممکن نہیں۔ ہر کیٹیگری کے کیس کے لیے الگ ٹیک اپ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سابق سی ای او خیبر پختونخوا اکنامک زون کی برطرفی کیخلاف دائر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں مسترد
عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔














