28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

منگل 28 جولائی 2026
author image

عمیر خان آباد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایئر بلیو ED-202 کی برسی پر ایک عینی شاہد اور تحقیقاتی ٹیم کے رکن کی یادداشت

وہ 28 جولائی 2010 کی صبح تھی۔ اسلام آباد میں موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ میں ایئر بلیو کی پرواز ED-202 کے ذریعے کراچی واپسی کے لیے بک تھا اور وی آئی پی لاؤنج سے باہر ایپرن پر کھڑا طیارے کے لینڈ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔

اچانک میرا ایک ساتھی تیزی سے میرے پاس آیا اور گھبرائی ہوئی آواز میں بولا:

“عبید صاحب… ایئر بلیو کی فلائٹ ریڈار سے غائب ہو گئی ہے۔”یہ سنتے ہی میرے منہ سے بے اختیار نکلا:

“إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ… یہ جہاز کریش ہو گیا ہے۔”

چند لمحوں بعد کنٹرول ٹاور سے اس افسوس ناک خبر کی تصدیق ہوگئی۔ میری زندگی کے وہ چند منٹ آج بھی ذہن میں اسی شدت سے محفوظ ہیں۔

اگلے روز مجھے اس وقت کے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کی تحقیقاتی ٹیم میں قانونی رکن کے طور پر شامل کر دیا گیا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں تک پہنچنے میں بارش، کیچڑ اور دشوار گزار راستوں نے دو گھنٹے لے لیے، لیکن وہاں پہنچ کر جو منظر دیکھا، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بکھرا ہوا ملبہ، امدادی ٹیمیں اور 152 قیمتی جانوں کے ضیاع کا درد آج بھی میری یادوں کا حصہ ہے۔

ایئر بلیو کی Airbus A321 کراچی سے اسلام آباد کی معمول کی پرواز پر تھی۔ سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طیارے میں کسی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے۔ حادثے کی بنیادی وجہ انسانی عوامل (Human Factors) اور Controlled Flight Into Terrain (CFIT)  قرار دی گئی۔ رپورٹ میں کاک پٹ میں مؤثر Crew Resource Management (CRM) کے فقدان، ناقص فیصلہ سازی اور مقررہ طریقۂ کار سے انحراف کو اہم عوامل قرار دیا گیا۔

تحقیقاتی عمل کا حصہ ہونے کے ناطے میری پیشہ ورانہ رائے یہ رہی کہ اپروچ کے آخری لمحات میں ایئر ٹریفک کنٹرول کے بعض پہلوؤں، خصوصاً ریڈار اپروچ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان رابطے اور صورت حال سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا بھی مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم سرکاری رپورٹ نے حادثے کی بنیادی ذمہ داری انسانی عوامل پر عائد کی اور طیارے کی کسی تکنیکی خرابی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔

اس سانحے نے پاکستان میں فضائی حادثات کی تحقیقات کے نظام پر بھی بنیادی سوالات کھڑے کیے۔ شہداء کے بعض اہلِ خانہ نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے بعد ICAO Annex 13 کے مطابق ایک آزاد حادثاتی تحقیقاتی ادارے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں پاکستان سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (PSIB) قائم کیا گیا، لیکن اصل سوال آج بھی باقی ہے کہ کیا اسے وہ مکمل انتظامی، مالی اور پیشہ ورانہ خودمختاری حاصل ہے جو امریکہ کے NTSB، برطانیہ کے AAIB، کینیڈا کے TSB اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے تحقیقاتی اداروں کو حاصل ہے؟

سولہ برس گزرنے کے باوجود جب بھی 28 جولائی آتی ہے تو وہ بارش، وہ انتظار، وہ ایک جملہ—”فلائٹ ریڈار سے غائب ہو گئی ہے” اور مارگلہ کی پہاڑیوں پر بکھرا ہوا ملبہ میری آنکھوں کے سامنے تازہ ہو جاتا ہے۔

ایئر بلیو ED-202 صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک قومی سانحہ اور ایک ایسا سبق تھا جسے کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ شہداء کے لیے بہترین خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہر حفاظتی سفارش پر عمل کیا جائے، تحقیقات کو مکمل طور پر آزاد رکھا جائے اور فضائی حفاظت کو ہر مفاد پر مقدم سمجھا جائے۔کیونکہ ایوی ایشن میں ہر حادثہ صرف ماضی کی داستان نہیں، بلکہ مستقبل کی جانیں بچانے کا ایک موقع ہوتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرلیا

جاپان کے کیوشو جزیرے میں 7.1 شدت کا زلزلہ، متعدد افراد زخمی، عمارتیں منہدم : وزیراعظم سانائے تاکائیچی

خستہ حال پل ٹوٹنے سے بھاری ٹرک ندی میں جا گرا، خیبر پختونخوا سے ہولناک حادثے کی ویڈیو وائرل

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے 3 دن بعد طالبہ نے خودکشی کرلی

اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے انتخابات:شکیل شیخ گروپ کی 26 سالہ حکمرانی ختم جے جے گروپ کا کلین سویپ

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی