جاپان کے محققین نے ایک جدید انسان نما روبوٹ راہب متعارف کرایا ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے روحانی مشورے دے سکتا ہے اور مستقبل میں انسانی راہبوں کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیوٹو کے مطابق یہ روبوٹ بدھ مت کی پیچیدہ اور نایاب تعلیمات پر تربیت یافتہ ہے اور حساس موضوعات پر بھی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے جو لوگ عام طور پر دوسروں سے شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
’بدھارائڈ‘ کے نام سے جانا جانے والا یہ روبوٹ مذہبی مقامات پر موجودگی کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ آواز کے ذریعے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ مستقبل میں یہ روبوٹ انسانی راہبوں کی طرف سے انجام دی جانے والی کچھ مذہبی رسومات میں معاونت یا ان کی جگہ لے سکتا ہے
یہ روبوٹ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار دی فیوچر آف ہیومن سوسائٹی کے پروفیسر سیجی کومائیگی کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے جنہوں نے اوپن اے آئی سمیت دیگر ماڈلز کی مدد سے مذہبی چیٹ بوٹس جیسے بدھا بوٹ اور کیٹیکزم بوٹ تیار کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
کومائیگی نے اپنے نئے روبوٹ میں ’بدھا بوٹ پلس‘ پروگرام چینی ساختہ یونٹ ٹری G1 انسان نما روبوٹ پر نصب کیا۔ مندر میں ہونے والی میڈیا پیشکش کے دوران روبوٹ نے سادہ سرمئی لباس پہنے اور ہاتھوں کو دعا کے انداز میں جوڑ کر مختلف عملی مظاہرے کیے۔
رپورٹر کے ساتھ بات چیت میں روبوٹ نے کہا کہ ’بدھ مت سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنے خیالات کی اندھا دھند پیروی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے کاموں میں کودنا چاہیے۔ ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن کو پرسکون رکھیں اور غیر ضروری سوچوں کو آزاد کر دیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کو اے آئی حریفوں کو رسائی نہ دینا مہنگا پڑگیا، یورپی یونین حرکت میں آگئی
مصنوعی ذہانت پر مبنی مذہبی چیٹ بوٹس دنیا بھر میں تمام بڑے مذاہب میں استعمال ہو رہے ہیں لیکن ان کے اخلاقی اور سماجی اثرات پر بحث بھی جاری ہے۔
یاد رہے کہ کیوٹو میں پہلے سے ایک غیر اے آئی اینڈرائڈ ’مینڈر‘ موجود ہے جو خطبے دیتا ہے جبکہ جرمنی میں 2017 میں ایک روبوٹ کو پانچ زبانوں میں برکت دینے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
کیوٹو یونیورسٹی کے مطابق، جاپان میں بڑھتی ہوئی عمر اور کم ہوتی آبادی کی وجہ سے مستقبل میں انسان نما روبوٹ مذہبی رسومات میں معاونت یا حتیٰ کہ ان کی انجام دہی میں کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے مذہبی ثقافت میں ایک نئی تبدیلی کا امکان ہے۔














