اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں کلیدی شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بعض ماہرین پہلی مرتبہ تقریباً 2 برس بعد شرح سود میں اضافے کی پیشگوئی بھی کر رہے ہیں۔
ایک جائزے کے مطابق سروے میں شامل 10 میں سے 6 ماہرین نے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی توقع ظاہر کی، جبکہ 3 ماہرین نے 50 بیسس پوائنٹس اور ایک نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی ہے، جو کہ 2024 کے وسط میں شروع ہونے والی شرح سود میں کمی کی پالیسی کے بعد ایک سخت مؤقف تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک جون 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کر چکا ہے، جب شرح سود ریکارڈ 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جبکہ آخری بار جنوری میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی۔
تیل کی قیمتوں کا دباؤ
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود مستقل امن معاہدہ نہ ہونے سے عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی برقرار ہے، جس کے باعث پاکستان کا درآمدی بل بھی بڑھ رہا ہے۔
ادھر ملک میں مہنگائی کی شرح مارچ میں بڑھ کر 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو فروری میں 7 فیصد تھی اور اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف (5 تا 7 فیصد) سے تجاوز کر گئی۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ شرح اپریل میں 10 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔
کے ٹریڈ کے سربراہ تحقیق فواد بصیر کے مطابق بلند تیل قیمتیں مانیٹری پالیسی کمیٹی کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ انہوں نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کرتے ہوئے اسے احتیاطی اقدام قرار دیا، نہ کہ سخت مالیاتی پالیسی کے نئے دور کا آغاز۔
شرح برقرار رکھنے کے حق میں دلائل
دوسری جانب بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ مہنگائی میں حالیہ اضافہ عارضی اور رسد سے متعلق مسائل کا نتیجہ ہے، اس لیے شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
جے ایس کیپٹل کے مطابق آئندہ 12 ماہ کے دوران اوسط مہنگائی تقریباً 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مرکزی بینک قلیل مدتی دباؤ کو نظر انداز کر سکتا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی سربراہ( ریسرچ) ثناء توفیق نے مارچ میں 1.07 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور روپے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافے کے خلاف خبردار کیا۔ ان کے مطابق سخت مالیاتی پالیسی معاشی بحالی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ مہنگائی کے بنیادی اسباب کو حل نہیں کرے گی۔
آزاد تجزیہ کار عمار حبیب خان نے تاہم 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی حمایت کی، ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ پہلے ہی اس امکان کو قیمتوں میں شامل کر چکی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کا تناظر
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حقیقی شرح سود کو مثبت رکھنے کا خواہاں ہے، جبکہ آئی ایم ایف بھی قبل از وقت نرمی کے خلاف خبردار کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کو مہنگائی، عالمی تیل قیمتوں اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے ایک محتاط فیصلہ کرنا ہوگا، جو آنے والے مہینوں میں معیشت کی سمت کا تعین کرے گا۔














