آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود برقرار رہے گی؟

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں کلیدی شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بعض ماہرین پہلی مرتبہ تقریباً 2 برس بعد شرح سود میں اضافے کی پیشگوئی بھی کر رہے ہیں۔

ایک جائزے کے مطابق سروے میں شامل 10 میں سے 6 ماہرین نے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی توقع ظاہر کی، جبکہ 3 ماہرین نے 50 بیسس پوائنٹس اور ایک نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی ہے، جو کہ 2024 کے وسط میں شروع ہونے والی شرح سود میں کمی کی پالیسی کے بعد ایک سخت مؤقف تصور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک جون 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کر چکا ہے، جب شرح سود ریکارڈ 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جبکہ آخری بار جنوری میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی۔

تیل کی قیمتوں کا دباؤ

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود مستقل امن معاہدہ نہ ہونے سے عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی برقرار ہے، جس کے باعث پاکستان کا درآمدی بل بھی بڑھ رہا ہے۔

ادھر ملک میں مہنگائی کی شرح مارچ میں بڑھ کر 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو فروری میں 7 فیصد تھی اور اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف (5 تا 7 فیصد) سے تجاوز کر گئی۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ شرح اپریل میں 10 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔

کے ٹریڈ کے سربراہ تحقیق فواد بصیر کے مطابق بلند تیل قیمتیں مانیٹری پالیسی کمیٹی کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ انہوں نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کرتے ہوئے اسے احتیاطی اقدام قرار دیا، نہ کہ سخت مالیاتی پالیسی کے نئے دور کا آغاز۔

شرح برقرار رکھنے کے حق میں دلائل

دوسری جانب بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ مہنگائی میں حالیہ اضافہ عارضی اور رسد سے متعلق مسائل کا نتیجہ ہے، اس لیے شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔

جے ایس کیپٹل کے مطابق آئندہ 12 ماہ کے دوران اوسط مہنگائی تقریباً 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مرکزی بینک قلیل مدتی دباؤ کو نظر انداز کر سکتا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی سربراہ( ریسرچ) ثناء توفیق نے مارچ میں 1.07 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور روپے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافے کے خلاف خبردار کیا۔ ان کے مطابق سخت مالیاتی پالیسی معاشی بحالی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ مہنگائی کے بنیادی اسباب کو حل نہیں کرے گی۔

آزاد تجزیہ کار عمار حبیب خان نے تاہم 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی حمایت کی، ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ پہلے ہی اس امکان کو قیمتوں میں شامل کر چکی ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کا تناظر

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حقیقی شرح سود کو مثبت رکھنے کا خواہاں ہے، جبکہ آئی ایم ایف بھی قبل از وقت نرمی کے خلاف خبردار کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کو مہنگائی، عالمی تیل قیمتوں اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے ایک محتاط فیصلہ کرنا ہوگا، جو آنے والے مہینوں میں معیشت کی سمت کا تعین کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی

پیٹرولیم بحران: سبسڈی ادائیگی کیس پر بڑا عدالتی حکمنامہ معطل

اسلام آباد: عیدالاضحیٰ کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری

بنگلہ دیشی: 15 اعلیٰ افسران کی تقرریاں متنازع، سول انتظامیہ میں بے یقینی

ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟