سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن اجلاس، عینی شاہدین نے کیا بتایا؟

بدھ 25 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سانحہ گل پلازا کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سندھ ہائیکورٹ میں منعقد ہوا جس میں واقعے میں بچ نکلنے والے شہریوں اور ریسکیو کرنے والے افراد نے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔

عینی شاہد سید عبداللہ کا بیان

اجلاس میں پیش ہوکر عینی شاہد سید عبداللہ نے بتایا کہ وہ صبح 10 بج کر 10 منٹ پر گل پلازا کے میزنائن فلور پر شاپنگ میں مصروف تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔

ان کے مطابق تقریباً 5 منٹ بعد شور مچا کہ آگ لگ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دکاندار نے پہلے تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں، سامان دوسری طرف سے نکال لیں گے تاہم کچھ دیر بعد دھواں بھرنا شروع ہوگیا تو باہر نکلنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ کا اجلاس: متاثرین گل پلازہ کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے 7 ارب روپے کی منظوری

سید عبداللہ نے کہا کہ ہم نے گرل موڑ کر نکلنے کی کوشش کی لیکن دروازے پر تالا لگا تھا، گرل کو موڑ کر راستہ بنایا، ہم اے سی آؤٹر کے پاس کھڑے تھے، باہر سڑک پر گزرتے ڈیکوریشن کے ٹرک کو روک کر اس کے ذریعے نیچے اتارا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ مزید 5 افراد تھے، نیچے آکر میں بے ہوش ہوگیا۔

کمیشن کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا انتظامیہ کا کوئی شخص موجود تھا؟ جس پر سید عبداللہ نے جواب دیا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت اترے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا ریسکیو اور ایمبولینسز نظر آئیں؟

سید عبداللہ نے بتایا کہ کچھ ایمبولینسز نظر آئیں تاہم کسی کو لوگوں کو نکالتے نہیں دیکھا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ 6 افراد کی فہرست دی گئی تھی تاہم دیگر شہری اجلاس میں پیش نہیں ہوئے۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ طلبی رضاکارانہ بنیاد پر تھی، زبردستی نہیں ہے۔

محمد دانش کا بیان: فائر سیفٹی تربیت یافتہ شہری کی گواہی

نجی شعبے سے فائر سیفٹی کورسز کرنے والے محمد دانش نے کمیشن کو بتایا کہ وہ صبح 10:20 سے 10:25 کے درمیان ناز پلازا سے ڈیوٹی ختم کرکے نکلے تو گل پلازا کی جانب سے دھواں اٹھتا دیکھا۔

مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے سوال نامہ تیار کر لیا، لواحقین سے کیا سوال پوچھے گئے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ لوگ عمارت سے اپنا سامان نکال رہے تھے، میں نے کہا کہ میں تربیت یافتہ ہوں، مجھے سامان فراہم کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ اہلکاروں سے 2 سیڑھیاں ملیں،مگر فائر مین ایکس اور لاک کٹر دستیاب نہیں تھا۔ سیڑھی لگا کر پہلی منزل اور پھر اے سی آؤٹر کے ذریعے دوسری منزل تک پہنچا۔ ایک ایدھی اہلکار نے نیچے سے سیڑھی کو سہارا دیا۔

محمد دانش نے بتایا کہ انہوں نے 6 سے 7 افراد کو ریسکیو کیا جن میں بعض بے ہوش ہوچکے تھے۔

انہوں نے متاثرین کو ہدایت دی کہ سر نیچے رکھیں تاکہ دھویں کے اثرات کم ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر منہ پر رومال نہ رکھتا تو ریسکیو ممکن نہ تھا، گیس ماسک کے بغیر کام کرنا انتہائی مشکل تھا۔

کمیشن کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ فائر اہلکار صرف پانی مار رہے تھے، ان کے پاس ماسک موجود نہیں تھے۔

محمد دانش نے مؤقف اختیار کیا کہ آگ اوپری فلور پر نہیں تھی اگر بروقت ریسکیو کیا جاتا تو مزید جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ کھڑکیوں کے بلاکس توڑ کر بھی لوگوں کو نکالا جاسکتا تھا۔

جسٹس آغا فیصل نے ان کے بیان پر ریمارکس دیے کہ فائر اور ریسکیو کی کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں، متعلقہ اداروں کو مؤقف دینے کا موقع دیا جائے گا تاکہ جرح ہوسکے۔

محمد دانش کے مطابق تقریباً آدھے گھنٹے تک عمارت کے اندر رسائی ممکن تھی بعد ازاں حالات خراب ہوتے گئے۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے 300 عارضی دکانوں کا قیام

کمیشن نے مزید گواہوں کی عدم حاضری اور آئندہ کارروائی کے لیے اجلاس ملتوی کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں فیملی تھیٹر کی بحالی کا آغاز اگلے ماہ ہوگا، عظمیٰ بخاری

کالعدم ایکشن کمیٹی کا پرامن ہونے کا دعویٰ غلط، ہتھیاروں کے ساتھ نکلنے والے پُرامن مظاہرین نہیں ہو سکتے، آزاد کشمیر پولیس

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

ایران پر امریکی حملے کے انتباہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ

ڈیجیٹل پاکستان کی جانب پیشرفت: وزیراعظم کا ایک ہی ڈیجیٹل شناخت سے تمام سرکاری سہولیات فراہم کرنے کا اعلان

ویڈیو

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی