سانحہ گل پلازا کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سندھ ہائیکورٹ میں منعقد ہوا جس میں واقعے میں بچ نکلنے والے شہریوں اور ریسکیو کرنے والے افراد نے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔
عینی شاہد سید عبداللہ کا بیان
اجلاس میں پیش ہوکر عینی شاہد سید عبداللہ نے بتایا کہ وہ صبح 10 بج کر 10 منٹ پر گل پلازا کے میزنائن فلور پر شاپنگ میں مصروف تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔
ان کے مطابق تقریباً 5 منٹ بعد شور مچا کہ آگ لگ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دکاندار نے پہلے تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں، سامان دوسری طرف سے نکال لیں گے تاہم کچھ دیر بعد دھواں بھرنا شروع ہوگیا تو باہر نکلنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ کا اجلاس: متاثرین گل پلازہ کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے 7 ارب روپے کی منظوری
سید عبداللہ نے کہا کہ ہم نے گرل موڑ کر نکلنے کی کوشش کی لیکن دروازے پر تالا لگا تھا، گرل کو موڑ کر راستہ بنایا، ہم اے سی آؤٹر کے پاس کھڑے تھے، باہر سڑک پر گزرتے ڈیکوریشن کے ٹرک کو روک کر اس کے ذریعے نیچے اتارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ مزید 5 افراد تھے، نیچے آکر میں بے ہوش ہوگیا۔
کمیشن کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا انتظامیہ کا کوئی شخص موجود تھا؟ جس پر سید عبداللہ نے جواب دیا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت اترے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا ریسکیو اور ایمبولینسز نظر آئیں؟
سید عبداللہ نے بتایا کہ کچھ ایمبولینسز نظر آئیں تاہم کسی کو لوگوں کو نکالتے نہیں دیکھا۔
کمیشن نے ریمارکس دیے کہ 6 افراد کی فہرست دی گئی تھی تاہم دیگر شہری اجلاس میں پیش نہیں ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ طلبی رضاکارانہ بنیاد پر تھی، زبردستی نہیں ہے۔
محمد دانش کا بیان: فائر سیفٹی تربیت یافتہ شہری کی گواہی
نجی شعبے سے فائر سیفٹی کورسز کرنے والے محمد دانش نے کمیشن کو بتایا کہ وہ صبح 10:20 سے 10:25 کے درمیان ناز پلازا سے ڈیوٹی ختم کرکے نکلے تو گل پلازا کی جانب سے دھواں اٹھتا دیکھا۔
مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے سوال نامہ تیار کر لیا، لواحقین سے کیا سوال پوچھے گئے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ لوگ عمارت سے اپنا سامان نکال رہے تھے، میں نے کہا کہ میں تربیت یافتہ ہوں، مجھے سامان فراہم کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ اہلکاروں سے 2 سیڑھیاں ملیں،مگر فائر مین ایکس اور لاک کٹر دستیاب نہیں تھا۔ سیڑھی لگا کر پہلی منزل اور پھر اے سی آؤٹر کے ذریعے دوسری منزل تک پہنچا۔ ایک ایدھی اہلکار نے نیچے سے سیڑھی کو سہارا دیا۔
محمد دانش نے بتایا کہ انہوں نے 6 سے 7 افراد کو ریسکیو کیا جن میں بعض بے ہوش ہوچکے تھے۔
انہوں نے متاثرین کو ہدایت دی کہ سر نیچے رکھیں تاکہ دھویں کے اثرات کم ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر منہ پر رومال نہ رکھتا تو ریسکیو ممکن نہ تھا، گیس ماسک کے بغیر کام کرنا انتہائی مشکل تھا۔
کمیشن کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ فائر اہلکار صرف پانی مار رہے تھے، ان کے پاس ماسک موجود نہیں تھے۔
محمد دانش نے مؤقف اختیار کیا کہ آگ اوپری فلور پر نہیں تھی اگر بروقت ریسکیو کیا جاتا تو مزید جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ کھڑکیوں کے بلاکس توڑ کر بھی لوگوں کو نکالا جاسکتا تھا۔
جسٹس آغا فیصل نے ان کے بیان پر ریمارکس دیے کہ فائر اور ریسکیو کی کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں، متعلقہ اداروں کو مؤقف دینے کا موقع دیا جائے گا تاکہ جرح ہوسکے۔
محمد دانش کے مطابق تقریباً آدھے گھنٹے تک عمارت کے اندر رسائی ممکن تھی بعد ازاں حالات خراب ہوتے گئے۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے 300 عارضی دکانوں کا قیام
کمیشن نے مزید گواہوں کی عدم حاضری اور آئندہ کارروائی کے لیے اجلاس ملتوی کردیا۔













