کراچی کے گل پلازہ سانحہ پر بننے والے جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے آفس میں کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل اور دیگر افسران کے ساتھ جاں بحق افراد کے لواحقین اکٹھے ہوئے جہاں لواحقین کی جانب سے واقعہ والے دن بگڑتی صورت حال کا احوال بتایا گیا۔
کمیشن کی جانب سے لواحقین کو ایک سوال نامہ دیا گیا ہے جس کا مقصد بنیادی معلومات اکٹھی کرکے اسے کمیشن کے رپورٹ کا حصہ بنانا ہے، کمیشن کی باضابطہ کارروائی کا آغاز کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے گل پلازہ کی عمارت کا دورہ کر کے کیا، کمیشن کی اگلی کاروائی سندھ ہائیکورٹ میں ہوگی۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، گواہوں کے بیانات قلمبند
سوالنامہ 17 سوالوں پر مشتمل ہے، فارم بھرنے والے کو اپنا نام، شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، جاں بحق فرد کا نام اور اس سے تعلق بتانا پڑے گا۔
کمیشن نے سب سے پہلا سوال کیا ہے کہ کیا آپ کے پاس جاں بحق شہری کی شناختی دستاویز موجود ہیں، سوال نامہ بھرنے والے کو بتانا پڑے گا کہ واقعہ کے دن جاں بحق فرد سے موبائل نمبر پر رابطہ ہوا تھا، واقعہ کے بارے میں کب علم ہوا؟
کمیشن نے پوچھا ہے کہ واقعہ کے بعد کیا آپ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا؟ اگر کیا تھا تو کس وقت آپ گل پلازہ پہنچے؟ فائر بریگیڈ کس وقت پہنچا؟ آپ کے اندازے کے مطابق آگ کو لگے کتنا وقت گزر چکا تھا؟ کیا ریسکیو حکام کے پاس سامان مکمل تھا؟ کیا ایمبولینس بھی موجود تھی؟ کیا پولیس نے مدد فراہم کی یا بدمزگی پیدا کی؟
مزید پوچھا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کب پہنچا اور اس کے پاس کیا پانی کافی تھا؟ آپ گل پلازہ کی عمارت سے کتنے فاصلے پر موجود تھے؟ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا لوگوں کو نکالنے میں کیا کردار رہا؟ گل پلازہ انتظامیہ کا کیا کردار رہا؟
’ریسکیو حکام کس وقت آئے اور کیا یہ اپنے سامان سے لیس تھے؟ آپ کو اپنے جاننے والے کے انتقال کی خبر کیسے پہنچی؟‘
مزید پڑھیں: ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کا تبادلہ، کیا وجہ سانحہ گل پلازہ ہے؟
ان سوالات کی بنیاد پر اور ریسکیو آپریشن میں شامل تمام اداروں کی رپورٹ کے بعد جوڈیشل کمیشن اپنی انکوائری رپورٹ مرتب کرے گا اور یہ رپورٹ حکومت سندھ کو بھیجی جائے گی۔














