سابق سینیئر سفارتکار اور کئی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سفیر مسعود خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر جو فضائی حملے کئے وہ اپنے دفاع کے تحت کئے کیونکہ پاکستان کی فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عام شہریوں پر سرحد پار لگاتار حملے ہو رہے تھے جس میں کئی شہادتیں ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، ممکنہ عدم استحکام کی ذمہ داری طالبان حکومت پر عائد
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ پچھلے 7،8 مہینوں کے اعداد و شُمار دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ شہادتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں اِضافہ ہو رہا ہے جو کہ ایک اِنتہائی تشویش ناک بات ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا فوری مسئلہ دہشتگردی کی روک تھام ہے اور یہ مناسب وقت ہے کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے علاقائی ممالک کی سطح پر کوئی اقدام اُٹھائے۔
فوجی ایکشن بھی ٹھیک ہے لیکن اُس کی کچھ حدود ہوتی ہیں جیسا کہ پاکستان کے فوجی ایکشن کی وجہ سے یو این کا ایک بیان آیا جس میں اُنہوں نے سویلین اموات کا ذکر کیا۔ فی الحال تو عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ایک موافق فضا بنی ہوئی ہے جس سے پاکستان کو فائدہ اُٹھانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایک عجیب قسم کی حکومت ہے جو دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
دہشتگردی ایک علاقائی خطرہ بن گیا ہے
مسعود خالد نے کہا کہ صرف پاکستان تو نہیں کہہ رہا کہ کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے بلکہ اس سال سیکیورٹی کونسل کی دوسری رپورٹ آئی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان میں نہ صرف یہ کہ تحریک طالبان پاکستان ہے بلکہ دوسری دہشتگرد تنظیمں اور کئی دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔
مزید پڑھیے: افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا خطرہ بن گیا ہے کہ جس سے علاقائی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کی ایک رپورٹ آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 23000 دہشتگرد موجود ہیں اور اگر اِس صورتحال کو نہ روکا گیا تو یہ 23 سے 36 ہزار ہو سکتے ہیں اور یہ ایسی خطرناک صورتحال بن رہی ہے کہ علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں
اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ اِس وقت افغانستان کے ساتھ معاملات میں سٹیل میٹ ہے۔ معاملات نہ تو سفارتکاری کے ذریعے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور نہ ہی فوجی کاروائی بہت بڑا ڈیٹرینٹ ثابت ہو پا رہی ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں علاقائی ممالک کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ کل وزیراعظم شہباز شریف قطر پہنچے تھے اور مجھے یقین ہے کہ اُنہوں نے اِس معاملے پر وہاں گفتگو کی ہے اور اعلامیے میں بھی یہ کہا گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اور امریکا کی لڑائی ہوتی ہے اور ہمارا بارڈر بھی کشیدہ ہوتا ہے تو بہت زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔
قصور افغانستان کا ہے
ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں قصوروار افغانستان ہے کیونکہ پاکستان نے تو ہمیشہ قیامِ امن اور مذاکرات کی بات کی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے تو افغان طالبان کی دس ارب کی بات پر بھی غور کیا۔
علاقائی سطح پر کوئی اقدام دکھائی نہیں دیتا
ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ سفارتکاری سے مسئلے کے حل کے لیے علاقائی سطح پر مجھے فی الحال کوئی اقدام دکھائی نہیں دیتا۔ حال ہی میں تاجکستان میں افغانستان سے حملے ہوئے جن میں چینی شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ اِس معاملے پر چین کے مفادات وابستہ ہیں اور روس جس نے افغانستان کی حکومت کو تسلیم کر رکھا ہے اُس نے اگر کہہ دیا ہے کہ افغانستان میں 23000 دہشتگرد موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان
روس نے تو غالباً اِسی لیے تسلیم کیا تھا کہ افغانیوں کے ساتھ تعلقات آگے بڑھیں اور اِنہیں دنیا کے ساتھ رہنے کے طور طریقے سِکھائے جائیں اور کہا جائے کہ دنیا میں رہنے کے یہ طور طریقے نہیں جو آپ لوگوں نے اپنائے ہوئے ہیں۔ لیکن روس کی جانب سے اس اقدام کا بھی زیادہ اثر دکھائی نہیں دیتا اور افغانستان میں دہشتگردوں کو لے کر چین اور روس دونوں ملکوں کو تشویش ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے علاقائی ممالک کو آگے آنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ قطر اور سعودی عرب ترکیے بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کیا افغانستان میں کثیر القومیتی حکومت قائم ہو سکتی ہے؟
اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ جس طرح کی رجعت پسند حکومت قائم ہے افغانستان میں وہ ایک دم سے تو اپنا ذہن تبدیل نہیں کر سکتے لیکن ہماری فوری ضرورت دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔












