افغان طالبان رہنما کا دھمکی آمیز بیان، خودکش حملہ آوروں کے گروہ کا دعویٰ

بدھ 25 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان سے وابستہ کمانڈر عبد الحمید خراسانی نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس خودکش حملہ آوروں کا ایک گروہ موجود ہے جو غیر مسلم دنیا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے بیان کے بعد سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ  بھی پڑھیں:افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق عبد الحمید خراسانی نے افغانستان کے نجی نشریاتی ادارے طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس ایسے افراد موجود ہیں جو ضرورت پڑنے پر کارروائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اشارہ کالعدم تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی  (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب دیا۔

بیان میں دیے گئے دعوؤں اور دھمکی آمیز لہجے پر تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیکیورٹی ماہرین اس بیان کو خطے کی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان