ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبا کے احتجاج کے بعد حکام نے 4 اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔ طلبا نے سہراوردی اُدیان میں مبینہ پولیس تشدد کے واقعے پر ڈی ایم پی رَمنا ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر مسعود عالم اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر مسعود عالم نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ملوث چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 8 سالہ بچی سے جنسی زیادتی کے واقعے کے خلاف ڈھاکا یونیورسٹی میں احتجاج کا آغاز
ان کا کہنا تھا کہ مزید دو سے تین اہلکاروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی۔ تاہم انہوں نے معطل کیے گئے اہلکاروں کے نام یا عہدے ظاہر نہیں کیے۔
یہ اقدام اُس واقعے کے ایک روز بعد سامنے آیا جب سہراوردی اُدیان میں انسدادِ منشیات مہم کے دوران پولیس اور طلبا کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ طلبا اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد شدید تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکا: این سی پی کے امیدوار ناصر الدین پٹوری پر انڈے پھینکے گئے
واقعے کے خلاف آج دوپہر ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبا نے شاہ باغ تھانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مسعود عالم کو عہدے سے ہٹانے، ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی، کیمپس اور شہر میں بلا جواز پولیس کارروائیوں کے خاتمے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔














