بلوچستان میں گندم کی قلت کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک جانب سرکاری سطح پر گندم کے ذخائر ختم ہونے کا انکشاف ہوا ہے تو دوسری جانب 8 لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے صوبے میں غذائی تحفظ اور ذخیرہ اندوزی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے بتایا کہ صوبے میں موجود تقریباً 8 لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہو گئی تھیں، جس کے باعث ان کی کوالٹی متاثر ہوئی۔ سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ میں ہدایت کی گئی تھی کہ پرانی گندم کو فروخت کیا جائے، جس پر صوبائی کابینہ کی اجازت سے محکمہ خوراک نے گندم فروخت کر دی اور حاصل ہونے والی رقم محکمہ خزانہ میں جمع کرا دی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ گندم موجودہ حکومت نے نہیں خریدی تھی بلکہ یہ خریداری ماضی میں کی گئی تھی، اور اس وقت خریدی گئی گندم کا معیار بھی کمزور تھا۔ طویل عرصے تک ذخیرہ رہنے کی وجہ سے گندم مزید خراب ہو گئی اور اس کی کوالٹی کم ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر پابندیاں، بلوچستان میں آٹے کا شدید بحران، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
صوبائی وزیر خوراک نے مزید انکشاف کیا کہ اس وقت محکمہ خوراک کے پاس گندم کی ایک بوری بھی موجود نہیں ہے، جس کے باعث صوبہ مکمل طور پر نئی خریداری اور بیرونی سپلائی پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
دوسری جانب فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبد الواحد بڑیچ نے کہا کہ بلوچستان کو اس وقت شدید گندم بحران کا سامنا ہے، جبکہ سندھ اور پنجاب سے گندم کی سپلائی پر پابندی کے باعث صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان حکومت نے 8 لاکھ گندم کی بوریاں سستے داموں فروخت کر دیں، جبکہ سریاب فلور مل میں آج بھی تقریباً 5 ہزار خراب گندم کی بوریاں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں محکمہ خوراک فلور ملز کو سرکاری گندم فراہم کرتا تھا، تاہم کئی سالوں سے حکومت نے گندم کی خریداری نہیں کی، جس کے باعث فلور ملز مالکان کو اب اپنی مدد آپ کے تحت گندم خریدنا پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق کوئٹہ میں اس وقت صرف 10 سے 11 فلور ملز فعال ہیں۔
بلوچستان کابینہ نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انٹیرم نیشنل ویٹ پالیسی 2025-26 برائے اسٹریٹجک ریزروز کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت محکمہ خوراک بلوچستان 0.50 ملین میٹرک ٹن گندم خریدے گا تاکہ صوبے میں گندم کی مسلسل دستیابی برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے گندم اسکینڈل: بلوچستان ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کو طلب کرلیا
حکومت نے سرکاری گوداموں میں موجود پرانی گندم کی فروخت کے لیے چیئرمین سی ایم آئی ٹی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے، جو مارکیٹ ریٹ اور گندم کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت کا تعین کرے گی، جبکہ محکمہ خوراک میں ماضی میں بدعنوانی کے الزامات میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور برطرفی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں گندم کے ذخائر ختم ہونا اور بڑی مقدار میں گندم کا خراب ہونا صوبے کے غذائی نظام میں سنگین انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔













