وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں پارلیمانی اراکین اور آبپاشی حکام کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نصیر آباد ڈویژن میں جاری ترقیاتی اور بحالی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: کالعدم تنظیم میں شمولیت پر اہلِ خانہ کی لاتعلقی کے اعلانات، سرفراز بگٹی کے بیان کے بعد صورتحال میں تبدیلی
اجلاس میں دریائی ذرائع کی بہتر منصوبہ بندی، نہروں کی تنظیم نو اور آبپاشی منصوبوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ضلع صحبت پور میں 5 ارب روپے کے خیر دین ڈرینج منصوبے کو جلد مکمل کرنے اور مانجھوٹی اور اوچ کینال کی بحالی کے منصوبے کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آبپاشی منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں، اور نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ اور فروٹ باسکٹ ہے۔ زرعی پیداوار والے علاقوں میں آبپاشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور تمام نہروں اور ڈریج سسٹم کی تنظیم نو مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی متعلقہ محکموں سے کرنے، جوابدہی کے عمل کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو دیرپا بنانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: سرکاری نوکریاں آن لائن میرٹ پر تقسیم ہوں گی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اعلان
اجلاس میں میر محمد صادق عمرانی، میر سلیم خان کھوسہ، عبدالمجید بادینی کے علاوہ صوبائی وزیر نوابزادہ میر طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی محمد خان لہڑی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم، سیکریٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔












