مصنوعی ذہانت کا دور اور ہماری معیشت کا مستقبل

جمعہ 27 فروری 2026
author image

حسن فرید جوئیہ

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدیوں تک معاشی ترقی کی بنیاد انسانی محنت رہی۔ کھیتوں میں کسان کی مشقت ہو یا کارخانوں میں مزدور کی محنت، یا پھر دفاتر میں بیٹھ کر دماغی کام کرنے والے افراد، ترقی کا پہیہ انسان کے ہاتھوں سے ہی گھومتا رہا۔ قومیں اپنی افرادی قوت، ہنر اور محنت کی بنیاد پر آگے بڑھتی تھیں۔

لیکن اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ دور مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی جو نہ تھکتی ہے، نہ سوتی ہے، نہ بیمار ہوتی ہے، اور سیکنڈوں میں وہ کام کر دیتی ہے، جس میں انسان کو گھنٹوں یا دن لگ سکتے ہیں۔

اب مشینیں صرف طاقت اور رفتار کی علامت نہیں رہیں، بلکہ ان کے ساتھ ذہانت بھی جڑ چکی ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو عالمی معیشت کا نقشہ بدل رہی ہے۔

صنعتی انقلاب کے زمانے میں ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کے درمیان فرق ضرور تھا، مگر اُس وقت مشینیں صرف جسمانی کام کو تیز کرتی تھیں۔

آج صورتحال مختلف ہے۔ اب ڈیٹا، سافٹ ویئر، الگورتھمز اور جدید ہارڈ ویئر اصل طاقت بن چکے ہیں۔ جو ملک مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، جدید سافٹ ویئر سسٹمز اور ٹیکنالوجی کے ڈھانچے سے محروم رہ جائے گا، وہ چاہے کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے، عالمی دوڑ میں پیچھے رہنے کا خطرہ مول لے گا۔

یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں، یہ معاشی خودمختاری کا سوال ہے۔ اگر ہم صرف صارف بن کر رہ گئے اور دوسروں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے رہے تو ہماری معیشت ہمیشہ دوسروں پر انحصار کرتی رہے گی۔ اصل کامیابی اس وقت ملے گی جب ہم تخلیق کار بنیں، تحقیق کریں، اپنے سافٹ ویئر اور اپنے حل تیار کریں۔

اس چیلنج کا حل واضح ہے۔ ہمیں علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنی معیشت کی بنیاد بنانا ہوگا۔ تعلیمی نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ ہمارے طلبہ صرف ڈگریاں نہ لیں بلکہ عملی مہارتیں حاصل کریں۔

اسکول اور یونیورسٹیاں ایسی ہونی چاہئیں جہاں کوڈنگ، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور جدید صنعتوں کے بارے میں تعلیم دی جائے۔ ہمیں اپنی صنعتوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ ہم عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ سفر صرف بڑے سرمایہ داروں یا چند کمپنیوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ریاست کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

دنیا کی بڑی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں حکومتوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی، نوجوانوں کے آئیڈیاز کو فنڈ کیا، تحقیقاتی اداروں کو مضبوط بنایا اور ایک واضح قومی پالیسی ترتیب دی۔

جب ریاست نوجوانوں کو مواقع دیتی ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ قومی ترقی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ نوجوان آئیڈیاز رکھتے ہیں، سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں، مگر انہیں رہنمائی، وسائل اور اعتماد کی ضرورت ہے۔

اگر ہم نے آج فیصلہ نہ کیا تو کل ہم صرف دوسروں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے بن کر رہ جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے علم اور تحقیق کو ترجیح دی، ٹیکنالوجی کو اپنایا اور قومی سطح پر سنجیدہ حکمت عملی بنائی تو ہم بھی اس نئی عالمی معیشت میں باعزت مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف باتیں نہ کریں بلکہ عملی قدم اٹھائیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا، اپنے نظام کو بدلنا ہوگا اور آگے بڑھنا ہوگا۔ مستقبل اُن قوموں کا ہے جو سیکھتی ہیں، تحقیق کرتی ہیں اور تبدیلی کو قبول کرتی ہیں۔

اگر ہم نے درست سمت اختیار کر لی تو مصنوعی ذہانت ہمارے لیے خطرہ نہیں بلکہ ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کون سے 6 پاکستانی کرکٹرز ’ہنڈریڈ‘ کے ٹاپ 50 ہیرو لسٹ میں شامل ہیں؟

سعودی عرب ہماری ریڈ لائن، پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، اسحاق ڈار کا بیان سعودی اکاؤنٹس پر وائرل

مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے باعث ڈھاکا سے 25 پروازیں منسوخ

چین کا امریکا سے ’ریڈ لائنز‘ برقرار رکھتے ہوئے رابطوں کے فروغ کا عندیہ

راولپنڈی: اب بغیر ہیمٹ سفر کرنے والے بائیکرز کا چالان نہیں ہوگا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے