گولڈ اسمتھ نے عمران خان کی جیل میں صحت اور حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان سے بات کرے تاہم ایک سزا یافتہ کی قید کو عالمی سطح پر اچانک ’انسانی المیہ‘ کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد سیاسی و سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیک گولڈ سمتھ کا برطانیہ سے پاکستان پر عمران خان کے علاج کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
برطانیہ کے سابق وزیر اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کے سابق برادر نسبتی زیک گولڈ اسمتھ کی جانب سے لندن کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امداد روکنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس پر ناقدین نے اسے پاکستان کی عدالتی خودمختاری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہودی زیک گولڈ اسمتھ اسرائیلی مظالم کی پردہ پوشی، فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے، مشرقِ وسطیٰ میں رجیم چینج کا داعی اور ایران کے خلاف جنگی بیانیے کا سخت حامی آج پاکستان کے خلاف میدان میں ہے۔
عمران خان کی بیماری اور بچوں سے نہ ملنے کی کہانی کو بنیاد بنا کر امداد روکنے کی دھمکی دینا، یہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا نہیں بلکہ پاکستان اور اس کی عدالتوں پر دباؤ ڈلوانا ہے۔
مدینے کی ریاست بنانے اور احتساب کا نعرہ لگانے والا آج بیرونی سہاروں کا محتاج دکھایا جا رہا ہے۔
عدالت کا فیصلہ ایک طرف، عالمی لابنگ دوسری طرف۔ سوال صرف ایک قیدی کا نہیں، پاکستان کی خودمختاری کا ہے۔
گولڈ اسمتھ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی جیل میں صحت اور حالات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو اہل خانہ اور ڈاکٹروں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان سے بات کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر نظرثانی کا عندیہ بھی دیا۔
دوسری جانب پاکستان میں مختلف حلقوں نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کے معاملے کو عالمی سطح پر اچھالنا اور اسے انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کرنا دراصل پاکستان اور اس کی عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق عدالتی فیصلے ملکی آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں اور انہیں بیرونی سیاسی ہمدردیوں یا لابنگ سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا، ضمانتیں منظور
یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں اور دیگر قانونی کارروائیوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام عدالتی عمل قانون کے مطابق جاری ہے،جبکہ پی ٹی آئی رہنما ان کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔












