افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، صدر مملکت اور وزیر اعظم کے پیغامات

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک افغان سرحد پر طالبان کی جارحیت کے جواب میں مسلح افواج کی بھرپور کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قیادت نے واضح کیا ہے کہ وطن کی سرحدوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم اور صدرِ مملکت نے عوام کو یقین دلایا کہ افواج پاکستان ہر خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری قوم اپنے بہادر فوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

دفاع وطن ہر حال میں ترجیح، وزیراعظم کا پیغام

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی افواج ملکی امن اور تحفظ پر کسی بھی صورت آنچ نہیں آنے دیں گی اور ہر جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلیٰ تربیت اور مؤثر دفاعی حکمت عملی کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کو فروغ دیتا رہا ہے، لیکن ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، اور افواجِ پاکستان ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔ پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے، صدرِ مملکت کا پیغام

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی قوم اور مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 72 اہلکار ہلاک، 120 سے زائد زخمی، 16 پوسٹیں تباہ کر دی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

صدر نے کہا کہ افواج پاکستان کی جوابی صلاحیت ہمہ گیر، بروقت اور فیصلہ کن ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر کسی نے ملک کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

صدر زرداری نے افغان طالبان رجیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے یہ گروہ ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان نے برادر ممالک کی معاونت سے اسے راہِ اعتدال پر لانے کی کوشش کی، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو ذمہ دار عناصر کو رسائی سے باہر کوئی نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا