خیبرپختونخوا کی سرحدی صورتحال کے تناظر میں افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائی سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں دشمن کی متعدد پوسٹیں تباہ اور جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس پیشرفت کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام نے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا اور ملکی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
مقامی شہریوں نے کہا کہ افغان طالبان کو اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے اور پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان سے دور رہیں۔‘
شہریوں نے پاک فوج کی جوابی کارروائی کو بروقت اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان ملک کا دفاع ہر قیمت پر کرنا جانتی ہیں۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’ہماری مسلح افواج ملک کا ہر قیمت پر دفاع کرنا جانتی ہیں۔‘
خیبرپختونخوا کے عوام نے اس موقع پر قومی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر محاذ پر اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک شہری نے کہا، ’ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔‘
کچھ شہریوں نے خطے کی مجموعی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اپنی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بھی دشمنوں کو مؤثر جواب دے چکا ہے اور آئندہ بھی ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
عوامی حلقوں نے حکومتِ افغانستان کو پیغام دیا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے تاکہ سرحدی امن برقرار رہ سکے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستانی عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال حساس ہے اور سرحدی کشیدگی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی کہ ذمہ دار حلقے حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے استحکام کی جانب پیش رفت کریں گے۔











