جامعتہ الرشید کے سربراہ اور ممتاز دینی اسکالر مفتی عبدالرحیم صاحب سے میری پہلی ملاقات دسمبر 2024 میں ہوئی۔ میں تب کتاب میلہ میں شرکت کی غرض سے کراچی گیا تھا، وہاں پر جامعۃ الرشید میڈیا کے ایک نوجوان نے رابطہ کیااور یوں میری مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی۔
یہ ملاقات کئی اعتبار سے مختلف اور منفرد رہی۔ صحافی کے طور پر بہت سے انٹرویوز کرنے اور ملک کی کئی بڑی قومی شخصیات سے ملنے کا موقعہ ملا جن میں وزرا اعظم بھی شامل ہیں۔ مفتی عبدالرحیم صاحب سےملاقات اس لحاظ سے منفرد تجربہ رہا کہ انہوں نے بڑی صاف گوئی سے بہت کچھ ایسا بھی کہا جو عام طور سے ہماری دینی شخصیات نہیں کہا کرتیں۔ کسی بھی سوال کے جواب کو آف دی ریکارڈ نہیں قرار دیا۔ آخر میں ان سے پوچھا کہ کوئی جواب ایسا تو نہیں جسے آف دی ریکارڈ رکھنا چاہیں تو انہوں نے نرمی سے کہا، میں آف دی ریکارڈ باتیں نہیں کیا کرتا، جو کہتا ہوں، اس پر قائم رہتا ہوں۔
مفتی عبدالرحیم صاحب دینی مدارس کے حلقے میں استاد صاحب کے نام سے معروف ہیں، ان سے کئی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، مدارس میں اصلاحات اور ان کا نیا مدرسہ بورڈ بھی زیر بحث آیا، اس کی تفصیلات پھر کبھی سہی۔ افغانستان اور افغان طالبان کے بارے میں البتہ انہوں نے دو تین باتیں ایسی کہیں جو حیران کن صاف گوئی پر مبنی تھیں، ان تینوں نکات نے مجھے تب ہلا کر رکھ دیا، مگر اس وقت تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ صرف ایک سال کے اندر یہ سب درست ثابت ہوجائے گا۔
مفتی عبدالرحیم صاحب کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی بہت بڑا خطرہ ہے، اتنا بڑا اور سنگین خطرہ کہ اس کا قوم کو اندازہ تک نہیں۔ ان کا کہنا تھا اس فتنے کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس کی جڑیں بڑی گہری ہوچکیں اور بہت بڑی افرادی قوت اسے حاصل ہوچکی ہے۔
مفتی صاحب کا کہنا تو یہ تھا کہ ٹی ٹی پی اور اس کے ذیلی گروپوں کو ختم کرنے کے لیے ریاست کو اپنے تمام وسائل اور قوت لگانا ہوگی، تب بھی یہ کام آسانی سے نہیں ہوسکتا۔ (یہ بات سن کر حیرت ہوئی تھی کیونکہ یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ فتنہ اس قدر بڑا اور طاقتور ہوچکا ہے۔مجھے یاد ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فتنتہ الخوارج کی تعداد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہوچکی۔ )
دوسری بات مفتی صاحب (استاد صاحب )نے یہ کہی کہ لوگ ٹی ٹی پی کو اصل خطرہ سمجھتے ہیں، مگر اس سےکہیں زیادہ بڑا اور سنگین خطرہ افغانستان اور افغان طالبان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کو نہ صرف افغان طالبان کی بھرپور سپورٹ اور فنانسنگ حاصل ہے بلکہ افغان طالبان کی صفوں میں شدید اینٹی پاکستان جذبات موجود ہیں۔ انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر یہ تک کہہ ڈالا کہ افغانستان پاکستان کے لیے بھارت سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے کیونکہ بھارت کو پاکستان میں کوئی قابل ذکر سپورٹ حاصل نہیں جبکہ افغان طالبان کے لیے پاکستان میں وسیع پیمانے پر سپورٹ اور ہمدردی موجود ہے۔
انہوں نے ایک حیران کن بات یہ بھی کہی کہ یہ صرف دیوبندی مسلک کا ایشو نہیں رہا بلکہ پاکستان کے دیگر مسالک میں بھی افغان طالبان کی سپورٹ موجود ہے، حتیٰ کہ بعض درگاہوں اور مشائخ حضرات بھی طالبان کی جیت اور اقتدار میں آنے سے سحر زدہ ہو کر ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہماری بیشتر دینی سیاسی جماعتیں بھی اندر سے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے متاثر ہیں اور وہ کبھی ان کے خلاف کوئی واضح بیان نہیں دیں گی۔
استاد صاحب کی یہ بات سن کر حیران ہوا، اس پر چند منٹ بحث بھی کی۔ میرا خیال تھا کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ ڈھنگ سے مذاکرات کئے جائیں تو شائد مسائل حل ہوجائیں گے۔ مفتی عبدالرحیم صاحب کی رائے مختلف تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان ایک خاص قسم کی نرگسیت پسندی کا شکار ہیں، ان میں نجانے کیوں ایک خاص نوع کا تکبر، فخر موجود ہے اور ان پر انڈین اثرونفوذ خاصا گہرا ہوچکا۔ ان کی ایسسمنٹ کے مطابق جب دوحا، قطر میں طالبان آفس کھلا تو انڈینز کو وہاں ان پر کام کرنے اور اپنا آلہ کار بنانے کا موقعہ ملا۔
مفتی صاحب کے بقول نہ صرف طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ بلکہ ملا برادر اور ملا حسن اخوند وغیرہ بھی سخت پاکستان مخالف ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی صورت میں ٹی ٹی پی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گے بلکہ اسے لیوریج کی صورت میں آئندہ بھی رکھنا چاہیں گے۔
گزرے ایک برس میں یہ سب کچھ ہمارے سامنے آیا، سو فی صد درست نکلا۔ ہم نے دیکھا کہ ٹی ٹی پی کتنا بڑا خطرہ ہے اور کس طرح پچھلے سال اس نے دہشتگردی کی سینکڑوں وارداتیں کر ڈالیں۔ اس پر قابو پانا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔ دوسرا ہم نے افغانستان اور افغان طالبان کی بدنیتی، احسان فراموشی، جھوٹ، بدعہدی اور بے مروتی اچھی طرح دیکھ لی، پہچان لی اور اب تو سب کسی شفاف آئینے کی طرح واضح ہے۔
اب ہم سب پر یہ بہت اچھی طرح آشکار ہوچکا کہ افغان طالبان کس قدر پاکستان مخالف ہیں، ہمیں وہ کس طرح نقصان پہنچانا چاہتے ہیں جبکہ ان کا اصل گٹھ جوڑ انڈین وزیراعظم مودی اور ان کی وساطت سے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے ساتھ ہے۔ افغان طالبان پاکستان جیسے محسن ملک کی پشت میں چھرا گھونپ کر اپنے ازلی دشمن انڈیا کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ڈالروں کی لالچ اور ہوس میں وہ برادر ہمسایہ مسلم ملک میں خون بہانے کو تلے ہوئے ہیں۔
آج ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان نے کس قدر مذاکرات کی کوشش کی، مفاہمت اور صلح کے ذریعے افغان طالبان سے معاملات طے کرنے چاہے مگر وہ تو طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور وہ پاکستان کو تسخیر کرنے کا احمقانہ خیال بھی اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے تھے، 26 فروری کی شام ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس سے ان شااللہ ان کا دماغ ٹھکانے لگ جائے گا اور آئندہ کے لیے معقول سبق مل جائے گا۔
ہم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ جب افغان طالبان کے فوجی دستے پاکستان پر حملہ آور تھے، ملک حالت جنگ میں تھا، مگر پھر بھی ہماری کئی بڑی جماعتوں اور خاص کر دینی طبقے کی نمائندہ جماعت جے یوآئی اور مولانا فضل الرحمن کو حملہ آور افغان طالبان کی مذمت کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہ پوری جماعت اس مشکل وقت میں اپنے ملک، قوم اور افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے خاموشی سے ایک سائیڈ میں دبک کر بیٹھ گئی۔
بدقسمتی سے یہ کم وبیش یہی رویہ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف نے اپنایا۔ اس کی قیادت خاص کر وزیراعلیٰ پختون خوا اور علیمہ خان وغیرہ نے حملہ آور افغان طالبان کی مذمت کرنے، ان پر تنقید کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی، جسے میں تو مجرمانہ خاموشی ہی قرار دوں گا۔
محمود خان اچکزئی اور اے این پی والوں سے تو خیر کبھی کسی کو امید تھی ہی نہیں۔ یہ افغانستان کے خلاف کچھ کہنے کی کبھی جرات ہی نہیں کر سکے، یوں جیسے خدانخواستہ ان کے اصل آقا افغانستان میں بستے ہوں۔
خیر وقت سب سے بڑی کسوٹی ہے، یہ کھرے کو کھوٹے سے الگ کر دیتا ہے، بہت کچھ چھان دیتا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ استاد صاحب مفتی عبدالرحیم کتنے درست اور دوراندیش تھے۔ ملک بھر میں ہر ایک پر یہ واضح ہوگیا کہ ٹی ٹی پی کتنا بڑا فتنہ ہے، افغان طالبان کس قدر پاکستان مخالف اور ہماری سالمیت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ یہ بھی کہ ہماری دینی جماعتیں کس حد تک کمپرومائزڈ اور مصلحت کا شکار ہیں، ہماری اپوزیشن جماعت اپنی سیاسی مخالفت کی وجہ سے سکیورٹی ایشوز میں بھی ریاست کے ساتھ کھڑا ہونے میں تامل کرتی ہے۔ یہ بھی کہ ہمیں ان تمام معاملات کو پوری سنجیدگی کے ساتھ دیکھنا ہوگا، حل تلاش کرنا ہوگا اور ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں، جو بگاڑ پیدا ہوا، اسے ٹھیک کرنا، اسے سنوارنا ہوگا۔ یہ وہ کام ہے جو اب کئے بغیر چارہ نہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











