دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی مکمل طور پر تبدیل کر دی ہے، جو افغانستان کے اندر حکومت کی تبدیلی یا موجودہ رجیم کے اندر ہی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان پر اقتصادی پابندیوں کے لیے متحرک اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
گزشتہ روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان شروع ہونے والی فوجی کشیدگی، جو کھلی جنگ کی شکل اختیار کر گئی، اُس نے پاکستان کو ایک مضبوط پوزیشن فراہم کر دی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف بڑی فوجی کامیابیاں حاصل کیں بلکہ عالمی سطح پر صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جائے، کیونکہ اقوام متحدہ اور روس کی رپورٹیں افغانستان کے اندر دہشتگردوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی اور اُنہیں عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دے چکی تھیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے موجودہ تنازع کو ’کھلی جنگ’ (open war) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی برداشت ختم ہو گئی ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے مؤثر کارروائی کر رہا ہے۔ یہ کشیدگی دراصل روک تھام کی ناکامی اور سرحد پار دہشتگردی، خاص طور پر پاکستانی حکام کے مطابق طالبان کے زیرِ کنٹرول افغان علاقے میں عسکریت پسندوں کا پناہ لینا یا حملوں کو ممکن بنانا جیسے تنازعات کے باعث شدت اختیار کر چکی ہے۔
پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی اور فوجی ’کامیابیاں‘
فضائی و زمینی حملے
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افغان سرزمین پر متعدد عسکری ٹھکانوں، چوکیوں، ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ ڈپو/اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں جنگجو مارے یا زخمی ہوئے اور متعدد چوکیوں کو تباہ یا قبضے میں لیا گیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات اور اعلیٰ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق کے تحت قندھار اور پکتیا جیسے علاقوں میں فضائی جوابی حملے کیے اور بدلے میں افغان طالبان کے کردار کو کمزور کیا ہے۔
پاکستان میں افغان سفیر نے بھی صورتحال کو ’جنگ جیسی‘ قرار دیتے ہوئے اسے افسوسناک کہا اور عوامی طور پر بیان دیا کہ فوجی نقصان یا کسی چوکی کے قبضے کے بارے میں ان کے پاس تصدیق شدہ معلومات نہیں ہیں۔
عالمی اور علاقائی دباؤ
آج کے تناظر میں اقوامِ متحدہ، روس، ایران اور دیگر ممالک نے کشیدگی کے خاتمے اور فوری ڈی-ایسکلیشن (de-escalation) پر زور دیا ہے، جبکہ یو این کے نمائندے نے فریقین کو جلد مذاکرات کی ہدایت کی ہے تاکہ انسانی نقصان کو روکا جا سکے۔ بین الاقوامی براڈکاسٹنگ اداروں اور عالمی رہنماؤں نے بھی الزام تراشیوں اور اختلافات کے باوجود کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
پاکستان نے صلاحیت رکھنے کے باوجود تحمّل سے کام لیا: جنرل خالد نعیم لودھی
دفاعی اُمور کے تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی کھلی جنگ کے خلاف تھا، لیکن یہ جواب پاکستان کو بامرِ مجبوری دینا پڑا۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان نے جو خوست، پکتیا اور ننگرہار میں سرجیکل اسٹرائیکس کیں اُن کا مقصد یہی تھا کہ کھلی جنگ یا اوپن وار سے بچا جائے، لیکن افغان طالبان رجیم نے پاکستان کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑ کر بہت بڑی بے وقوفی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی
پاکستان جتنی صلاحیت رکھتا ہے اُس نے اب تک اپنی صلاحیت سے بہت کم جواب دیا ہے اور مؤثر جواب دیا ہے، اور پاکستان اب بھی تحمّل کی پالیسی پر کاربند ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بعض ممالک ثالثی کی کوششوں کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔ ایران نے پیشکش کی ہے، اس کے ساتھ قطر ہمیشہ متحرک ہوتا ہے، اور شاید اسی وجہ سے پاکستان نے اب تک اپنے حملوں میں وہ شدت پیدا نہیں کی جو وہ کر سکتا ہے۔
جنرل لودھی نے کہا کہ اب اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نکلنا چاہیے، لیکن مستقل حل اُس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک افغانستان ڈینائل موڈ میں رہے گا اور یہ کہتا رہے گا کہ دہشتگردی سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ افغانستان کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا، اور اُس کے بعد مل جل کر اس مسئلے کا حل نکل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی اہم ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک اور طاقتیں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں اور فالس فلیگ آپریشنز بھی کرتی ہیں، لیکن پاکستان نے اب تک بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس فوجی کشیدگی کے نتیجے میں اگر افغانستان کے اندر طالبان میں سے ہی ایسے لوگ برسرِ اقتدار آ جائیں جو بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہوں اور پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی پالیسی کے خلاف ہوں تو یہ ایک اہم پیش رفت ہو گی۔
دوست ممالک کے کہنے پر اکتوبر میں کارروائی سے نہ رُکتے تو آج یہ کارروائی نہ کرنی پڑتی: بریگیڈیئر آصف ہارون
دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے بارے میں اسٹریٹجک پیشنس یا تزویراتی صبر کی پالیسی ختم کر دی ہے۔ ماضی میں ہم یہ کہتے تھے کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور افغانستان کے ساتھ دشمنی کر کے ہم دونوں جانب سے خود کو غیر محفوظ نہیں کر سکتے۔ اس پالیسی کے تحت ہم نے کبھی بھی کوئی مؤثر اور مربوط طویل المدتی افغان پالیسی تشکیل نہیں دی۔ ہماری پالیسی یہ رہی کہ ہم نے اُنہیں خوش رکھنا ہے، ان کے جائز و ناجائز مطالبات کو تسلیم کرتے رہنا ہے کیونکہ بھارت کی وجہ سے یہ ہماری اسٹریٹجک مجبوری تھی۔
لیکن اب ہم نے اُس پالیسی کو یکسر بدل دیا ہے، تاہم اُس کے بدلے میں ہم نے بہت زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں۔ گزشتہ روز سے شروع ہونے والے آپریشن غضب للحق میں پاکستان نے نہ صرف خارجیوں کو مارا ہے بلکہ افغان فوجیوں کی دفاعی تنصیبات کو بھی تباہ کیا ہے، جس سے افغان طالبان رجیم کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ یہی پالیسی ہماری ایران کے بارے میں بھی تھی جسے ہم نے جنوری 2024 میں تبدیل کیا، اور اُس کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے۔
افغانستان 1948 سے بلوچ باغی تنظیموں کو پناہ اور تربیت گاہیں فراہم کرتا چلا آ رہا ہے۔ افغانستان کی تمام حکومتیں ہمیشہ بھارت کے ساتھ اچھی رہی ہیں اور اُنہوں نے ہمیشہ ہماری اسٹریٹجک مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اُن کے عزائم یہی رہے کہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنا اور پاکستان کا فائدہ اٹھانا ہے۔ لیکن اب ہم نے اُن کے تمام اہم مقامات کو لاک اور مارک کر کے واضح کر دیا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔
افغانستان میں تبدیلی صرف ایک طریقے سے آ سکتی ہے: اگر وہاں اندر سے تبدیلی آئے اور ایسے لوگ حکومت میں آئیں جو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر انداز میں چلانا چاہتے ہوں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ طالبان رجیم کے خلاف اور پاکستان کے ساتھ ہے۔
بریگیڈیئر آصف ہارون نے کہا کہ ہمیں افغانستان کو روگ اسٹیٹ ڈکلیئر کروانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں اور دنیا کی جانب سے اُس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو سخت کرنا چاہیے۔
افغان طالبان رجیم نے عرب ممالک، خاص طور پر قطر کا بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ گزشتہ اکتوبر اگر قطر ثالثی کے لیے نہ آتا اور پاکستان وہ کارروائی اکتوبر میں کر دیتا جو اب کی ہے تو پانچ چھ ماہ کے دوران پاکستان کو جو دہشتگردی برداشت کرنا پڑی، وہ نہ ہوتی۔
ایمبیسیڈر علی سرور نقوی
پاکستان کے سابق سینئر سفارتکار اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی سرور نقوی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اس سے نکلنا کیسے ہے، یہ سوال اب افغانوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے اپنی بے وقوفی سے جو صورتحال خود پر مسلط کر لی ہے، اس سے نکلیں گے کیسے؟
یہ بھی پڑھیے پاک افغان سرحدی جھڑپوں پر اقوام متحدہ کی گہری تشویش
انہوں نے کہا کہ ہم تو اُن کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ افغانستان نے دہشتگردوں کو اپنی سرزمین کے استعمال کی کھلی اجازت دے رکھی ہے اور پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناتے یہ روز روز کے حملے برداشت نہیں کر سکتا۔ دنیا میں کوئی چھوٹا ملک بھی ایسی صورتحال برداشت نہیں کرتا۔ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں حالیہ جھڑپوں کا سبب بھی یہی تھا۔ پاکستان اُن ملکوں کے مقابلے میں کہیں بڑا ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے خلاف پاکستان نے بالکل درست اقدام اٹھایا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک یہ صورتحال برداشت نہیں کرتا کہ ہر روز حملے ہوں اور ہر روز شہادتیں۔ مذاکرات کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ افغان حکام بار بار عہد شکنی کرتے ہیں، اس لیے جب تک کوئی ذمہ دار ملک اُن کی ذمہ داری نہ لے، اُن کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔
ایمبیسیڈر مسعود خالد
سابق سینئر سفارتکار اور کئی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سفیر مسعود خالد نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں پر سرحد پار لگاتار حملے ہو رہے تھے جن میں کئی شہادتیں ہوئیں۔
اگر پچھلے سات آٹھ مہینوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شہادتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فوری مسئلہ دہشتگردی کی روک تھام ہے اور یہ مناسب وقت ہے کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے علاقائی ممالک کی سطح پر کوئی مؤثر اقدام اٹھائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ایک عجیب نوعیت کی حکومت ہے جو دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔














