نظامِ انصاف کو محفوظ، شفاف اور عوام دوست بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سائلین کے لیے بایومیٹرک تصدیق کی سہولت کو ملک بھر کی عدالتوں تک توسیع دے دی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد شناخت کی مستند توثیق کو یقینی بنانا، جعلسازی اور غلط نمائندگی کی روک تھام کرنا اور عدالتی کارروائیوں کو مزید تیز اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا قوانین میں انقلابی تبدیلی، بینکوں اور اداروں میں بائیومیٹرک مسائل کا حل تلاش کرلیا گیا
نئے انتظام کے تحت سائلین اب عدالتی امور سے متعلق بایومیٹرک تصدیق نہ صرف متعلقہ عدالتی کمپلیکسز میں بلکہ پاکستان بھر کے کسی بھی نادرا ای سہولت مرکز پر بھی مکمل کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق اس سہولت سے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے نجات ملے گی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے عدالتی خدمات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
مزید برآں بزرگ سائلین اور ایسے افراد کے لیے، جن کے فنگر پرنٹس واضح نہیں ہوتے، چہرہ شناسی کی جدید سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ کسی بھی شہری کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، نادرا سے وراثتی سرٹیفکیٹ کا حصول انتہائی آسان ہوگیا
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام میں غلط بیانی اور جعلسازی کے انسداد کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جس سے عدالتی معاملات کی تکمیل میں شفافیت اور رفتار دونوں میں بہتری آئے گی۔
اس اقدام سے ایک جانب قانونی تحفظ اور طریقۂ کار کی شفافیت کو تقویت ملے گی، تو دوسری جانب عدالتی خدمات کو مزید سہل اور قابلِ رسائی بنایا جا سکے گا،اسے جدید، مؤثر اور جواب دہ عدالتی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔














