پاک افغان کشیدگی: پاکستان کی فوجی طاقت کے مقابلے میں کابل کے پاس کونسے آپشنز باقی ہیں؟

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت کے توازن میں واضح برتری پاکستان کے پاس ہے۔ حالیہ جھڑپوں اور بیانات کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خطہ کسی بڑی محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت نہ عسکری اور نہ ہی معاشی طور پر اس پوزیشن میں ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھلی جنگ کا خطرہ مول لے سکے۔

پاکستان کی فوجی برتری

پاکستان ایک منظم اور پیشہ ور فوج، جدید دفاعی نظام اور فعال فضائیہ رکھتا ہے، جبکہ افغانستان داخلی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور محدود عسکری وسائل سے دوچار ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر کشیدگی بڑھتی بھی ہے تو سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کابل کے پاس عملی طور پر کیا آپشن باقی رہ جاتے ہیں؟ کیا وہ غیر روایتی حربوں تک محدود رہے گا یا بالآخر سفارتی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان جھڑپیں: امن و امان کے لیے دہشتگردوں کا سر کچلنا ضروری تھا، اراکین پارلیمنٹ کی رائے

افغانستان کی عسکری محدودیت

ماہر امورِ افغانستان محمود جان بابر کے مطابق افغانستان اس وقت کسی بڑی اور باضابطہ عسکری کارروائی کے لیے پاکستان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس منظم فوج، جدید ہتھیاروں کی مکمل صلاحیت اور فعال فضائیہ موجود ہے، جبکہ افغانستان کے پاس باقاعدہ فضائیہ نہیں، اس لیے وہ کسی روایتی جنگ یا بڑے حملے کی سکت نہیں رکھتا۔

داخلی سیاسی مسائل

افغانستان زیادہ سے زیادہ گوریلا طرز کی جنگ لڑ سکتا ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں امریکا کے خلاف لڑی، لیکن پاکستان کے ساتھ باقاعدہ جنگ ممکن نہیں۔ اس کی بڑی وجہ داخلی حالات ہیں، طالبان حکومت کے خلاف مختلف گروہ موجود ہیں، خصوصاً شمالی مزاحمتی محاذ اور پنجشیر کے رہنما احمد مسعود کی قیادت میں، اور دیگر نسلی و سیاسی گروہ بھی طالبان سے ناراض ہیں۔

معیشت اور علاقائی حمایت

افغانستان کی معیشت کمزور ہے اور وہ بیرونی امداد، خصوصاً امریکا سے ملنے والی مالی معاونت پر انحصار کرتا رہا ہے۔ دفاعی اعتبار سے بھی جدید فضائی قوت، تربیت یافتہ فوج اور جدید ہتھیاروں کی کمی ہے۔ محمود جان بابر کے مطابق افغانستان کے ہمسایہ ممالک ایران، چین اور روس بھی طالبان سے مکمل مطمئن نہیں، اس لیے علاقائی حمایت محدود ہے۔

غیر روایتی حربے اور سرحدی جھڑپیں

سینیئر صحافی ہارون رشید کے مطابق افغانستان غیر روایتی یا گوریلا طرز کی جنگ کے ذریعے پاکستان کے لیے کچھ حد تک چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔ محدود پیمانے کی سرحدی جھڑپیں وقتی طور پر جاری رہ سکتی ہیں، اور افغانستان روایتی افواج کے بجائے ٹی ٹی پی یا دیگر غیر ریاستی عناصر کو استعمال کر کے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ترکیہ اور قطر نے پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کی کوششیں تیز کر دیں

کشیدگی کا متوقع حل

افغانستان کی موجودہ حکومت نہ معاشی طور پر مستحکم ہے اور نہ سیاسی طور پر مضبوط۔ طالبان کے پاس بڑے تصادم کے لیے جدید جنگی وسائل محدود ہیں، اور داخلی عوامی ردِعمل کا بھی سامنا ہے۔ لہٰذا کھلی اور باضابطہ جنگ کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ غیر روایتی اقدامات اور محدود کشیدگی خطے کے لیے چیلنج تو بن سکتی ہے، لیکن اس کا حل بالآخر سفارتی اور مذاکراتی راستے سے ہی نکلے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خرگوشوں کا ‘بزرگ’: برطانوی خرگوش نے 15 سال کی عمر پا کر عالمی ریکارڈ توڑ دیا

باپ بننے پر مرد کے جسم میں کون سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟

امن مذاکرات: ایران کے جواب نہ دینے پر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، امریکی میڈیا

چٹاگانگ کالج میں طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم، 15 افراد زخمی

پی ایس ایل 11، فخرزمان نے بابراعظم کو پیچھے چھوڑ دیا

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

لائیوامریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر، امریکی میڈیا کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ