خطے میں جاری جنگی صورتحال نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد مختلف ممالک میں ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کے بھی متعدد بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے جہاں شہریوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
ملک بھر کے شیعہ اور سنی علمائے کرام نے اس نازک مرحلے پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر صورت اپنے جذبات کا اظہار پرامن، باوقار اور قانون کے دائرے میں رہ کر کریں۔ علما نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، معاشرتی ہم آہنگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ داخلی استحکام متاثر نہ ہو۔
امت کو اتحاد کی ضرورت، ابتسام الٰہی ظہیر
معروف مذہبی اسکالر ابتسام الٰہی ظہیر نے موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال کو تاریخ کا نہایت حساس مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا اس وقت اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی، سرحدی کشیدگی اور مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیاں حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاج، گلگت بلتستان میں کل تعلیمی ادارے بند رہیں گے
انہوں نے کہا کہ علما، دانشوروں اور بااثر طبقات پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور امت کے اتحاد کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جذباتی ردعمل یا غیر منظم احتجاج داخلی کمزوری اور بیرونی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے، اس لیے حکمت اور بصیرت سے کام لینا ضروری ہے۔
احتجاج حق ہے مگر قانون کے دائرے میں، محمد زبیر فہیم
مرکزی صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان محمد زبیر فہیم نے جنگی صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک پر حملوں اور قیادت کی شہادت پر امت مسلمہ رنجیدہ ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم کراچی اور لاہور سمیت بعض شہروں میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات افسوسناک ہیں۔ تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں اور یہ قومی مفاد کے خلاف ہے۔

انہوں نے حدیث نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی تمنا نہ کی جائے بلکہ عافیت طلب کی جائے، تاہم اگر جنگ مسلط ہو تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جائے۔
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کا ردعمل
صدر جعفریہ الائنس پاکستان علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت سے عالم اسلام ایک اہم رہنما سے محروم ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت افراد کے جانے سے ختم نہیں ہوتی، تاہم موجودہ حالات میں عوام کو پرامن رہنا ہوگا۔
گلگت بلتستان سے اپیل
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما شیخ آغا باقر نے اسکردو اور دیگر علاقوں کے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری عمارت یا قومی ادارے کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا مشترکہ گھر ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ احتجاج کو نظم و ضبط اور قانونی حدود میں رکھتے ہوئے جاری رکھا جائے تاکہ پیغام مؤثر اور باوقار انداز میں دنیا تک پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کا ایران سے اظہار یکجہتی، پاکستانی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل
مجموعی طور پر علما نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ حساس حالات میں اتحاد، صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ پُرامن اور منظم احتجاج ہی مؤثر پیغام دیتا ہے، جبکہ داخلی انتشار دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھے اور قوم کو اتحاد و استقامت عطا فرمائے۔














