لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی جنگ میں کود پڑی، حزب اللہ نے ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔ جواب میں اسرائیل نے بیروت پر بمباری کردی۔
گروپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے رہنما علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی، اور یہ قدم لبنان اور اس کے عوام کے دفاع اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مزاحمتی قیادت پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ اسرائیلی حملوں کا تسلسل اور ان کے رہنماؤں، نوجوانوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا انہیں اپنے دفاع اور مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق دیتا ہے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل 15 ماہ سے جاری جارحیت کو بغیر کسی ردعمل کے جاری نہیں رکھ سکتا اور خبردار کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد اسرائیلی حملوں کو روکنا اور مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا پر مجبور کرنا ہے۔
خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے ایران جنگ کے تناظر میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیروت کے بعض علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد لاکھوں افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ نقل مکانی صرف جنوبی لبنان تک محدود نہیں بلکہ بیروت کے نواحی علاقوں میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔
بیروت کا نواحی علاقہ داحیہ، جسے حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، خصوصی طور پر نشانہ بن رہا ہے۔ یہاں لاکھوں افراد آباد ہیں جو ضروری سامان سمیٹ کر محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے جلد از جلد محفوظ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2024 کی جنگ کے دوران بھی داحیہ کو بارہا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی سال نومبر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اطلاعات کے مطابق یہ جنگ بندی یکطرفہ ثابت ہوئی اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ اسرائیل حزب اللہ پر دوبارہ مسلح ہونے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ لبنانی ریاست پر گروپ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال کے باعث بیروت میں شدید افراتفری پائی جا رہی ہے۔ یہ تمام حالات ماہِ رمضان میں پیش آ رہے ہیں جب مسلمان دن کے اوقات میں روزہ رکھتے ہیں۔ آج سحری کے وقت، جب لوگوں کو روزے سے قبل آخری کھانا کھانا تھا، بہت سے خاندان پناہ کی تلاش میں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نظر آئے۔
علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور مزید حملوں اور نقل مکانی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔














