جنگ آخری آپشن، مگر دفاع کا حق محفوظ ہے، پارلیمنٹ سے 9ویں خطاب میں صدر زرداری کا دوٹوک پیغام

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدرِ مملکت آصف زرداری کا کہنا ہے کہ جنگ پاکستان کے لیے آخری آپشن ہے، تاہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق محفوظ ہے۔

’کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور کسی کو پاکستان کی سرزمین غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔‘

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بطور 2 بار منتخب صدر یہ اُن کا پارلیمنٹ سے 9واں خطاب ہے اور ہر خطاب جمہوری تسلسل اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ میں آ کر بات کریں، صدر زرداری کا پی ٹی آئی کو مشورہ کتنا قابلِ عمل ہے؟

صدر زرداری نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خودمختاری کے تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی استحکام کو قومی ترجیحات قرار دیا۔

آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے ’گو زرداری گو‘ اور ’قیدی نمبر 804، وزیر اعظم عمران خان‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شور شرابہ بھی کیا گیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، اور پاکستان کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ و حکومت کی ذمہ داری اور مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے۔

مزید پڑھیں: ’ہم اس کو صدر نہیں مانتے‘، پی ٹی آئی کی آصف زرداری کے پارلیمنٹ سے خطاب پر تنقید

انہوں نے قائداعظم کے جمہوری وژن، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے متفقہ آئین اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوریت کے لیے قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی پر اپنے غیر متزلزل یقین کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کرنا اسی عزم کا عملی اظہار تھا اور 18ویں ترمیم نے وفاقی وحدت کو مضبوط کیا۔

سلامتی اور سرحدی صورتحال

صدر زرداری نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ میں قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا اور جب بھی قومی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستان نے تحمل اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں کا افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا اور ’معرکۂ حق‘ میں بھارتی جارحیت کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدلا گیا۔

انہوں نے 26 فروری کی رات مغربی سرحد پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن کارروائی کر کے واضح کر دیا کہ کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صدر نے شہدا اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اُن کی باعزت کفالت کی پابند ہے۔

افغانستان، دہشت گردی اور عالمی تناظر

صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کو علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت متعدد گروہوں کو افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے میسر ہیں اور دوحہ معاہدے کے وعدے فراموش کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور ایران تہذیبی شراکت دار ہیں، صدر مملکت آصف زرداری کی ایران کے قومی دن کی تقریب میں شرکت

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے لیے جنگ آخری آپشن ہے، تاہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق محفوظ ہے۔

’کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور کسی کو پاکستان کی سرزمین غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔‘

بھارت سے کشیدگی اور آبی تنازع

صدر زرداری نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں، تاہم جارحیت کی صورت میں پاکستان دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدامات کو ’آبی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اتحاد اور قانون کی طاقت سے اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا۔

ایران، چین، امریکا اور خطے کے ساتھ تعلقات

صدر مملکت نے ایران کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں جبکہ چین کے ساتھ تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک فیز 2 بنیادی ڈھانچے میں انقلاب لائے گا۔ خلیجی ممالک، آذربائیجان اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

معیشت، اصلاحات اور سماجی شعبہ

صدر زرداری نے کہا کہ 2022 کے بعد حکومتی اقدامات سے اہم معاشی اشاریے مستحکم ہوئے، تاہم اب توجہ جامع ترقی، روزگار اور براہِ راست ریلیف پر مرکوز ہونی چاہیے، انہوں نے ٹیکس نظام میں شفافیت، ٹیکس دائرہ کار کی توسیع اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے توانائی اصلاحات، کلین انرجی، زرعی پالیسی، آبی انتظام اور ماحولیاتی انصاف کو اسٹریٹجک ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے سماجی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے گا اور خواتین کو ڈیجیٹل رسائی و مالی خودمختاری دی جائے گی۔

وفاقی ہم آہنگی اور بلوچستان

صدر نے کہا کہ مضبوط وفاق مرکزیت نہیں بلکہ ہم آہنگی سے قائم ہوتا ہے، مشترکہ مفادات کونسل اور این ایف سی ایوارڈ جیسے فورمز کو مؤثر بنانا ہوگا۔

انہوں نے بلوچستان کی محرومیوں کے ازالے، معدنی وسائل کے فوائد مقامی آبادی تک پہنچانے اور غیر ملکی پراکسیز کے خاتمے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ سلامتی، معیشت اور آئینی طرزِ حکمرانی ایک دوسرے سے جڑے ستون ہیں، نئے پارلیمانی سال میں خودمختاری کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ، معاشی استحکام اور وفاقی ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے