دہائیوں کی شراکت داری نظر انداز، نازک مرحلے پر بھارت کا ایران کے ساتھ دھوکا

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

1979 میں انقلابِ ایران کے بعد بھارت اور ایران کے تعلقات اتار چڑھاؤ کے باوجود مجموعی طور پر قریبی رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی، تجارت، بندرگاہی ترقی اور علاقائی رابطہ کاری کے شعبوں میں متعدد معاہدے کیے، جن میں سب سے نمایاں منصوبہ چاہ بہار بندرگاہ ہے۔ تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد بھارت کے سفارتی رویّے نے سوالات کو جنم دیا ہے۔

انقلاب کے بعد تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری

بھارت اور ایران نے 2003 میں ’نئی دہلی اعلامیہ‘ پر دستخط کیے جس کے تحت توانائی اور اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تجارت کئی برسوں تک مضبوط رہی، اور ایران بھارت کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ رہا۔

چاہ بہار بندرگاہ: دوطرفہ تعاون کی علامت

2016 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تہران کا دورہ کیا، جہاں بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان چاہ بہار معاہدہ طے پایا۔ اس منصوبے کا مقصد بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہ راست رسائی فراہم کرنا تھا۔ بھارتی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ اور وزارت خارجہ کے اعلامیوں میں اس منصوبے کو ’اسٹریٹجک سنگ میل‘ قرار دیا گیا ہے۔ 2024 میں بھی بھارت نے چاہ بہار پورٹ آپریشن کے لیے طویل مدتی معاہدے کی توثیق کی۔

اسرائیل کے ساتھ بھارت کی بڑھتی قربت

دوسری جانب، بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر دفاعی تعاون کے شعبے میں۔ 2017 میں نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے، جس کے بعد دفاعی معاہدوں اور ٹیکنالوجی تعاون میں اضافہ ہوا۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کے مطابق اسرائیل بھارت کے بڑے دفاعی سپلائرز میں شامل ہے۔

حال ہی میں ایران پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ’علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور شہریوں کی حفاظت پر زور دیا‘۔ اس بیان کا اسکرین شاٹ بھی منظر عام پر آیا ہے جس میں اسرائیلی قیادت سے رابطے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی اور بھارت کا مؤقف

ایران پر حملوں کے بعد بھارت کی جانب سے اسرائیل کی براہ راست مذمت سامنے نہیں آئی۔ مزید برآں، جب ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کا آغاز کیا تو نریندر مودی نے یو اے ای کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیانات میں شہریوں کے تحفظ اور جلد جنگ بندی پر زور دیا گیا، تاہم ایران کی براہ راست حمایت کا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

سفارتی توازن یا پالیسی میں تبدیلی؟

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ’ملٹی الائنمنٹ‘ کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں وہ اسرائیل، خلیجی ریاستوں اور ایران تینوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم ایران پر حملوں کے بعد اسرائیل کے ساتھ براہ راست رابطہ اور یو اے ای سے اظہارِ یکجہتی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا بھارت نے اس نازک مرحلے پر ایران کے ساتھ اپنی سابقہ قربت سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔

ایران اور بھارت کے درمیان دہائیوں پر محیط توانائی تعاون، چاہ بہار جیسے اسٹریٹجک منصوبے اور سفارتی رابطوں کے باوجود حالیہ بحران نے دونوں ممالک کے تعلقات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ جس وقت ایران اسرائیلی حملوں اور علاقائی دباؤ کا سامنا کر رہا تھا، اسی دوران بھارتی وزیراعظم کی جانب سے اسرائیلی قیادت سے براہ راست رابطہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی نے مبصرین کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ نئی دہلی نے اس نازک مرحلے پر تہران کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے مخالف کیمپ کے ساتھ ہم آہنگی دکھائی۔

ناقدین کے مطابق یہ طرزِ عمل ایران کے لیے ایک سفارتی دھچکا سمجھا جا رہا ہے کیونکہ برسوں کی شراکت داری اور اسٹریٹجک مفادات کے باوجود بھارت نے مشکل وقت میں غیر جانبداری یا حمایت کے بجائے ایسے اقدامات کیے جو تہران میں ’پالیسی تبدیلی‘ یا حتیٰ کہ ’اعتماد میں دراڑ‘ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کار اسے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بھارت کی بدلتی ترجیحات کا عکاس قرار دے رہے ہیں، جہاں اسٹریٹجک مفاد روایتی دوستی پر غالب دکھائی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایندھن کا بحران: سندھ کی جامعات میں 31 مارچ تک آن لائن کلاسز کا فیصلہ

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران میں کمی کے امکانات روشن، متبادل ذرائع سے تیل آنا شروع

طالبان سے وابستہ نام نہاد عالم کا پاکستان کے خلاف ’جہاد‘ کا فتویٰ، اشتعال انگیز بیان پر تشویش

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے نے یورپ پر بھاری اقتصادی بوجھ ڈال دیا، صدر یورپی یونین

پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی باضابطہ رونمائی، نام بھی رکھ دیا گیا

ویڈیو

دنیا اتنی بری نہیں جتنی ہماری منفی سوچ اسے بنا دیتی ہے

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ، پاکستان نے بھی آپریشن شروع کردیا، عید سے پہلے عمران خان کی رہائی؟

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے