مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور عالمی طاقتوں کے رویوں کا گہرا مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی حکمتِ عملی کسی مخصوص ملک میں حکومت کی تبدیلی سے کہیں زیادہ گہری اور خطرناک ہے۔ ان کا اصل مقصد ایران یا کسی دوسرے ملک کے نظام کو جڑ سے اکھاڑنا نہیں بلکہ اسے اس حد تک کمزور اور لاچار کر دینا ہے کہ وہ صرف اپنی بقا کی جنگ میں الجھ کر رہ جائے۔ اس سوچی سمجھی چال کا سب سے بڑا نشانہ پورا مسلم خطہ ہے، جسے ایک لامتناہی خلفشار اور ہیجان کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔
آج کے دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جا رہی ہیں۔ مغربی طاقتوں نے قیاس آرائیوں اور بے بنیاد خبروں کا ایک ایسا جال بن رکھا ہے جس میں پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک بری طرح جکڑے جا رہے ہیں۔ اس وقت مغربی میڈیا نے باقاعدہ ایک انفارمیشن وار کا مورچہ سنبھال رکھا ہے، جہاں رپورٹنگ غیر جانبدارانہ نہیں بلکہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہے۔
حال ہی میں مغربی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ’ایران پر امریکی حملہ سعودی عرب کے اصرار پر ہوا‘، درحقیقت یہ ایک ایسا میزائل تھا جس کا مقصد تہران اور ریاض کے درمیان چین اور پاکستان کی ثالثی سے پیدا ہونے والی حالیہ قربت کو دشمنی میں بدلنا ہے۔ یہ خبر کسی سرکاری ذرائع کے بغیر محض نامعلوم ذرائع کے نام پر پھیلائی گئی تاکہ مسلم امہ کے دو بڑے ستونوں کے درمیان شکوک و شبہات کی دیوار کھڑی کی جا سکے۔
مغربی میڈیا کی جانبداری کا عالم یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی کھلی جارحیت کو حقِ دفاع قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کے لیے دہشت گردی جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ نیویارک ٹائمز جیسے بڑے اداروں نے تو اپنے عملے کو باقاعدہ ہدایت نامے جاری کر رکھے ہیں کہ نسل کشی یا مقبوضہ فلسطین جیسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔
اسی طرح ایران پر حملے کے دوران اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور اسکولوں میں معصوم بچیوں کی ہلاکتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا، کیونکہ مغربی میڈیا کا مقصد سچ دکھانا نہیں بلکہ اسرائیل کے جرائم پر پردہ ڈالنا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا ہے۔
مغربی طاقتیں دور بیٹھ کر اس تمام فساد کا تماشا دیکھ رہی ہیں۔ جب مسلمان ممالک ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں اور آپس میں دست و گریبان ہوتے ہیں، تو اس کا براہِ راست فائدہ ان قوتوں کو پہنچتا ہے جو اس خطے کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ یہاں کا پڑھا لکھا طبقہ اکثر مغربی میڈیا کی پروفیشنلزم سے مرعوب ہو کر ان کی خبروں کو حرفِ آخر سمجھ لیتا ہے، حالانکہ وہ خبریں مخصوص فکری ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہیں۔
وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ مسلم دنیا کے مقتدر حلقے اور عوام ان چالوں کو سمجھیں۔ اگر ہم نے ان بے بنیاد خبروں اور اصطلاحات کے گورکھ دھندے کا بروقت ادراک نہ کیا تو ہم دشمن کے بچھائے ہوئے اس جال میں الجھ کر رہ جائیں گے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن کا ہدف صرف ایک ریاست نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کا اتحاد اور امن ہے، جسے پارہ پارہ کرنے کے لیے ہر روز ایک نیا جھوٹ تراشا جاتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم مغربی میڈیا کی فکری غلامی سے نکل کر حقائق کو اپنی آنکھ سے دیکھیں اور دنیا کو دکھائیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












