معروف گلوکار فلک شبیر کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عوامی مقامات پر لباس کے ضابطے کے نفاذ کی اپیل نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ بڑی تعداد نے اسے ذاتی آزادیوں میں مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:سجاد علی کے انکار کے بعد فلک شبیر کا بڑا اعلان، ’پاکستان آئیڈل‘ کو اپنے گانے مفت استعمال کی اجازت دیدی
پاکستانی موسیقی کی دنیا کے معروف گلوکار فلک شبیر ایک حالیہ سوشل میڈیا بیان کے بعد عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ویپ پوڈز کے خلاف پنجاب حکومت کے کریک ڈاؤن کو سراہتے ہوئے انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ بازاروں، سڑکوں اور دیگر عوامی مقامات پر مختصر لباس پہننے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

فلک شبیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ 2 بیٹیوں کے والد کی حیثیت سے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو معاشرہ ثقافتی طور پر نقصان کا شکار ہو سکتا ہے۔
فلک شبیر کی اہلیہ اور معروف اداکارہ سارہ خان کی جانب سے بھی اس بیان کو سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہوگیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس پر بحث شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:نصرت فتح علی کی قوالی گانے پر گلوکار فلک شبیر نے عاطف اسلم پر تنقید کیوں کی؟
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے فلک شبیر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’اخلاقی پولیسنگ‘ قرار دیا۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ لباس کا انتخاب ہر فرد کا ذاتی حق ہے اور معاشرتی اقدار کے نام پر لوگوں کی نجی آزادیوں کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کئی تبصروں میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر اسلامی اصولوں کی بات کی جا رہی ہے تو پھر شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد کو بھی اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔

کچھ صارفین نے فلک شبیر اور سارہ خان کی پیشہ ورانہ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے مؤقف میں تضاد کی نشاندہی کی، جبکہ بعض نے گلوکاری کے پیشے کو موضوع بنا کر طنزیہ تبصرے کیے۔ دیگر صارفین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ثقافت اور سماجی رویے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور لباس بھی اسی ارتقائی عمل کا حصہ ہے۔
کئی تبصروں میں فلک شبیر کے بیرونِ ملک قیام اور ان کے خاندان کے لندن میں رہنے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر مغربی معاشروں میں مختلف طرزِ لباس کو قبول کیا جاتا ہے تو پھر پاکستان میں اس حوالے سے سخت پابندیوں کا مطالبہ تضاد محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سارہ خان کے خوبصورت فیملی فوٹوز اور ویڈیو وائرل
دوسری جانب بعض صارفین نے فلک شبیر کی رائے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر لباس کے حوالے سے کچھ سماجی حدود اور اقدار کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ معاملہ سوشل میڈیا پر روایتی اقدار، مذہبی حساسیت، ثقافتی شناخت اور فرد کی ذاتی آزادی کے درمیان توازن سے متعلق ایک وسیع بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔














