امریکا کی جانب سے ایرانی ساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔
According to media reports;🚨🇺🇸
Iran will now witness America's power and wrath; over 400 missiles have been fired at Iran .
America has declared war .
Now, the entire world will witness America's retaliation . pic.twitter.com/ILbYOL9W9Z
— Us_militryPower (@Trumpspoof__) June 6, 2026
صورتحال کے پیش نظر بحرین اور کویت میں فضائی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
أسقطت قوات القيادة المركزية الأمريكية #سنتكوم، قبل قليل، أربع طائرات مسيّرة إيرانية هجومية أحادية الاتجاه كانت قد أُطلقت باتجاه مضيق هرمز. شكّلت هذه المسيّرات تهديداً مباشراً لحركة الملاحة البحرية في المنطقة. عقب ذلك، شنت القوات الأمريكية ضربات استهدفت مواقع رادار إيرانية…
— U.S. Central Command – Arabic (@CENTCOMArabic) June 5, 2026
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
American forces have counted nearly 1,000 commercial vessel transits in and out of the Strait of Hormuz in the last two months, according to an official familiar with US Central Command operations https://t.co/X1Nmeq2ZRR
— Bloomberg (@business) June 5, 2026
سینٹکام کے مطابق ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔
اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا۔ کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔
The US military said it carried out strikes on Iranian radar sites on Friday in what it called a defensive action after Iran launched four attack drones toward the Strait of Hormuz.
The US military shot down all of the Iranian drones, saying they "posed an immediate threat to… pic.twitter.com/UjSLWrU77b
— KUWAIT TIMES (@kuwaittimesnews) June 6, 2026
ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے۔
اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ: آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو ’اچھی خبر‘ مل سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے اور مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔














