تیل کی قیمتوں میں اضافے پر پاکستان کا آئی ایم ایف کو انتباہ

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے رواں ہفتے دورۂ پاکستان پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد کو بتایا ہے کہ عالمی توانائی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ملک کی معاشی بحالی کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ان خدشات کا اظہار ایسے وقت پر کیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ روز یعنی پیر کو امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی خلیجی خطے میں جوابی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نمایاں حد تک بڑھ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قطر نے پاکستان کے ساتھ نئی تجارتی شراکت داری قائم کی ہے، وزیر خزانہ

خطے میں ہونے والے حملوں، خصوصاً آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 2 جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی صلاحیت محدود ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پیٹرول، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوام پہلے ہی مہنگائی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

پاکستان نے پیر کے روز آئی ایم ایف وفد کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا، کیونکہ اسلام آباد اپنے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے اگلے جائزے کی تیاری کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات، ادارہ جاتی اصلاحات پر پیشرفت سے آگاہ کیا

آئی ایم ایف ٹیم ستمبر 2024 میں منظور کیے گئے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت جائزہ لینے کے لیے پاکستان میں موجود ہے، یہ کثیر سالہ پروگرام ادائیگیوں کے توازن کے بحران، بلند افراطِ زر اور کم ہوتے زرمبادلہ ذخائر کے بعد معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ حالیہ معاشی اشاریے بتدریج بحالی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور ترقی کی شرح سمیت اہم شعبوں میں مثبت رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل ممکنہ خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر، حکومت نے آئی ایم ایف کا اہم مطالبہ مان لیا

محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ حکومت نے صورتحال کی مسلسل نگرانی اور مربوط پالیسی ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی استحکام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت سماجی اثرات سے بھی آگاہ ہے اور کمزور طبقوں کے تحفظ کے لیے سماجی اخراجات میں اضافے کی پالیسی جاری رکھے گی۔

وزیرِ خزانہ نے توانائی اور ٹیکس شعبے میں جاری اصلاحات سے بھی آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا اور اس سال سرکاری اداروں کی نجکاری اور تنظیمِ نو کے اہم اقدامات مکمل کرنے کے عزم کو دہرایا۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف بھی مان گیا کہ پاکستان میں معاشی استحکام آ گیا ہے، وزیرخزانہ

آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بھی پاکستانی حکام کے ساتھ کراچی میں ہونے والی ملاقاتوں اور قرض پروگرام کے جائزے پر تبادلہ خیال کی تفصیلات شیئر کیں، دونوں فریقین نے آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے عوامی مالیات کو مضبوط بنانے، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کرنے اور مجموعی معاشی استحکام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت اختیار کی تھی۔

حالیہ مہینوں میں حکومت نے آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق اہم شعبوں میں اصلاحات، روایتی اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے اقدامات کیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp