پاکستان کی ماہر قانون اور خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ماہ نور عمر کو سال 2026 کے لیے ٹائم میگزین کی ‘ویمن آف دی ایئر’ فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔
ماہ نور عمر نے ستمبر 2025 میں پاکستان میں ماہواری سے متعلق مصنوعات پر عائد نام نہاد ‘پیریڈ ٹیکس’ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں اس حساس موضوع پر بحث چھڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹری پیڈز پر ٹیکس چیلنج، لاہور ہائیکورٹ میں رِٹ قابلِ سماعت قرار
ٹائم میگزین کی جاری کردہ فہرست میں ماہ نور عمر کے علاوہ 16 دیگر عالمی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں اولمپک گولڈ میڈلسٹ سڈنی میک لافلن لیورون اور آسکر نامزد فلم ساز کلوئی ژاؤ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ماہ نور نے 14 برس کی عمر میں نور فاؤنڈیشن قائم کی اور دیہی علاقوں کی لڑکیوں کے لیے ماحولیاتی تبدیلی، ماہواری اور جنسی تشدد سے آگاہی سے متعلق ورکشاپس منعقد کیں۔ بعد ازاں ایک گھریلو ملازمہ سے سینیٹری پیڈز کی قیمت پر گفتگو نے انہیں احساس دلایا کہ یہ بنیادی ضرورت ہر خاتون کی دسترس میں نہیں۔
یونیسیف کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں سینیٹری مصنوعات پر ٹیکسز کے باعث ان کی قیمت میں 40 فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ صرف 12 فیصد خواتین تجارتی بنیادوں پر تیار کردہ پیڈز یا ٹیمپون استعمال کرتی ہیں۔ کپڑا استعمال کرنے سے صحت کے مسائل اور اسکول سے غیر حاضری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس کیخلاف کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے اعتراضات مسترد کردیے
25 سالہ ماہ نور عمر اس وقت لندن اسکول آف اکنامکس میں جینڈر، امن اور سیکیورٹی میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میں اس وقت تک آزاد نہیں جب تک ہر عورت آزاد نہیں ہوتی’ اور وہ آئندہ دہائیوں میں بھی خواتین اور جینڈر اقلیتوں کے حقوق کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھیں گی۔














