ڈیجیٹل خودمختاری اور قومی سلامتی

جمعرات 5 مارچ 2026
author image

حسن فرید جوئیہ

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اکیسویں صدی میں طاقت کا تصور بدل چکا ہے۔ کبھی طاقت کا مطلب بڑی فوج، جدید اسلحہ اور مضبوط معیشت سمجھا جاتا تھا، مگر آج ایک نئی طاقت نے جنم لیا ہے، جسے ڈیجیٹل طاقت کہا جا سکتا ہے۔

جو ملک اپنے ڈیٹا، اپنے سسٹمز اور اپنی ٹیکنالوجی پر کنٹرول رکھتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں خودمختار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں یا ہم اب بھی دوسروں کے بنائے ہوئے ڈیجیٹل ڈھانچوں پر کھڑے ہیں؟

ڈیجیٹل خودمختاری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس انٹرنیٹ موجود ہے یا ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ کیا ہمارے سرکاری اداروں، بینکوں، دفاعی نظام، تعلیمی پلیٹ فارمز اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی بنیاد مقامی ٹیکنالوجی پر ہے یا بیرونی کمپنیوں کے سافٹ ویئر اور سرورز پر۔

اگر ہمارے حساس ڈیٹا کا ذخیرہ بیرون ملک سرورز پر ہو، اگر ہمارے مالیاتی لین دین غیر ملکی سسٹمز کے ذریعے ہو رہے ہوں، اگر ہماری کمیونیکیشن بیرونی پلیٹ فارمز کے رحم و کرم پر ہو، تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہماری اصل پوزیشن کیا ہے۔

قومی سلامتی اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ آج ڈیجیٹل سرحدیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔ سائبر حملے کسی بھی ملک کی معیشت، بجلی کے نظام، بینکنگ سیکٹر یا مواصلاتی ڈھانچے کو مفلوج کر سکتے ہیں۔

اگر ہمارے سسٹمز مکمل طور پر مقامی کنٹرول میں نہ ہوں تو کسی بھی کشیدگی یا عالمی تنازع کی صورت میں ہمیں فوری خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل خودمختاری صرف ترقی کا مسئلہ نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کے بڑے صارف ضرور بن چکے ہیں، مگر بڑے تخلیق کار نہیں بن سکے۔ ہم سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں مگر اسے ڈیزائن نہیں کرتے۔ ہم کلاؤڈ سروسز لیتے ہیں مگر اپنے ڈیٹا سینٹرز محدود ہیں۔ ہم ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں مگر عالمی سطح کی ایپس بنانے میں ابھی پیچھے ہیں۔ یہ فرق وقتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک ہے۔ اگر ہم نے اس خلا کو پُر نہ کیا تو آنے والے برسوں میں ہمارا انحصار مزید بڑھ جائے گا۔

ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے سب سے پہلا قدم تعلیم ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو نوجوانوں کو صرف تھیوری نہ پڑھائے بلکہ انہیں کوڈ لکھنا، سسٹم ڈیزائن کرنا، سائبر سیکیورٹی سمجھنا اور ہارڈ ویئر تیار کرنا سکھائے۔

جب تک ہم بنیادی سطح پر ٹیکنالوجی کی سمجھ پیدا نہیں کریں گے، ہم ہمیشہ تیار شدہ مصنوعات کے خریدار رہیں گے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی یونیورسٹیوں کو تحقیق کا مرکز بنایا، صنعت کے ساتھ ان کا ربط مضبوط کیا اور نوجوان ذہنوں کو وسائل فراہم کیے۔ ہمیں بھی اسی سمت میں سنجیدہ قدم اٹھانا ہوگا۔

دوسرا اہم پہلو مقامی صنعت کا فروغ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے سسٹمز محفوظ ہوں تو ہمیں مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز، ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ یونٹس اور ڈیٹا سینٹرز کو مضبوط کرنا ہوگا۔

سرکاری سطح پر ایسے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں جہاں قومی ڈیٹا مقامی سرورز پر محفوظ کیا جائے۔ مقامی کمپنیوں کو حکومتی کنٹریکٹس دیے جائیں تاکہ وہ تجربہ اور سرمایہ دونوں حاصل کریں۔ اس طرح ایک ایسا ماحولیاتی نظام بن سکتا ہے جو بیرونی انحصار کو کم کرے۔

تیسرا پہلو پالیسی سازی ہے۔ ڈیجیٹل خودمختاری صرف نجی شعبے کے بس کی بات نہیں۔

ریاست کو واضح قانون سازی کرنی ہوگی کہ حساس ڈیٹا کہاں محفوظ ہوگا، کون سی ٹیکنالوجی قومی سطح پر استعمال کی جائے گی، اور بیرونی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے اصول کیا ہوں گے۔ ایک مضبوط سائبر سیکیورٹی فریم ورک، ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی طویل المدتی حکمت عملی ضروری ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ مکمل خود انحصاری کا مطلب دنیا سے کٹ جانا نہیں۔ عالمی تعاون ضروری ہے، مگر یہ تعاون برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ہمیں ٹیکنالوجی خریدنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھنے اور بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کرنی ہوگی۔ شراکت داری تب ہی فائدہ مند ہوتی ہے جب دونوں فریق مضبوط ہوں۔ کمزور فریق ہمیشہ انحصار کا شکار رہتا ہے۔

نوجوان اس تبدیلی کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ ہمارے ملک میں لاکھوں نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل سروسز سے وابستہ ہیں۔

اگر انہیں مناسب تربیت، مالی معاونت اور حکومتی سرپرستی مل جائے تو وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینا ہوگا، انکیوبیشن سینٹرز قائم کرنے ہوں گے اور تحقیق و ترقی کے لیے فنڈز مختص کرنے ہوں گے۔

جب نوجوان کو یقین ہو کہ اس کا آئیڈیا ملک کے اندر ہی پروان چڑھ سکتا ہے تو وہ بیرون ملک جانے کے بجائے یہاں کام کرے گا۔

ڈیجیٹل خودمختاری کا ایک اور اہم پہلو عوامی شعور ہے۔ ہمیں بطور شہری یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا ڈیٹا قیمتی ہے۔ ہم جو معلومات آن لائن شیئر کرتے ہیں، وہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر عوام کو ڈیجیٹل سیکیورٹی کی بنیادی آگاہی ہو تو مجموعی نظام بھی مضبوط ہوگا۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم اس سمت میں سنجیدہ ہیں؟ کیا ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہمیں صرف صارف نہیں بلکہ تخلیق کار بننا ہے؟ اگر ہم نے آج منصوبہ بندی نہ کی تو کل ہمارا انحصار مزید گہرا ہو جائے گا۔ لیکن اگر ہم نے تعلیم، صنعت اور پالیسی کو یکجا کر کے ایک واضح راستہ اختیار کیا تو ہم ڈیجیٹل میدان میں بھی خودمختار ہو سکتے ہیں۔

قومی سلامتی اب بندوق اور ٹینک تک محدود نہیں رہی۔ آج اصل جنگ ڈیٹا، سافٹ ویئر اور سائبر اسپیس میں لڑی جا رہی ہے۔ جو ملک اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت کر لے گا وہی محفوظ اور باوقار رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں، کیونکہ مستقبل انہی کا ہے جو اپنی ٹیکنالوجی خود بناتے ہیں اور اپنی تقدیر خود لکھتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp