دنیا بھر میں روزگار کے بدلتے ہوئے حالات کے درمیان ایک نیا رجحان سامنے آ رہا ہے جہاں بعض پیشہ ور افراد اپنی قابلیت اور کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے بجائے اپنے سی وی میں تجربے کے سال کم دکھانے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسابقتی ملازمتوں کے ماحول میں انٹرویو کے مواقع بڑھائے جاسکیں۔
متعدد امیدوار اب اپنے کیریئر کی مکمل تاریخ درج کرنے کے بجائے صرف حالیہ یا متعلقہ تجربہ شامل کررہے ہیں۔ بعض لوگ پرانی ملازمتیں نکال دیتے ہیں یا صرف وہی تجربہ رکھتے ہیں جو مطلوبہ ملازمت کے تقاضوں سے زیادہ قریب ہو۔ اس حکمت عملی کا مقصد خود کو اسامی کی ضروریات کے مطابق ظاہر کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوشش ہے نوجوان ملازمت ڈھونڈنے کے بجائے ملازمتیں دینے کی جانب جائیں، وزیراعظم کا ڈی ایٹ سمٹ سے خطاب
ماہرین کے مطابق اس رجحان کی ایک بڑی وجہ حد سے زیادہ تجربہ کار سمجھے جانے کا خوف ہے۔ بعض بھرتی کرنے والے ادارے ایسے امیدواروں سے ہچکچاتے ہیں جن کے پاس بہت زیادہ تجربہ ہو، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ایسے افراد زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کریں گے، جونیئر عہدوں پر زیادہ دیر مطمئن نہیں رہیں گے یا بہتر موقع ملتے ہی ملازمت چھوڑ دیں گے۔ اس وجہ سے کئی بار زیادہ تجربہ رکھنے والے امیدوار ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد ہو جاتے ہیں۔
اسی خدشے کے باعث بعض امیدوار اپنے سی وی میں سینیئر عہدے یا اعلیٰ ڈگریاں بھی حذف کر دیتے ہیں تاکہ وہ مطلوبہ اسامی کے مطابق نظر آئیں۔ ایک بھرتی کے تجربے میں ایک امیدوار نے اپنے سی وی کے دو مختلف ورژن جمع کرائے۔ جس ورژن میں زیادہ تجربہ ظاہر کیا گیا تھا اسے زیادہ تر اداروں نے مسترد کر دیا، جس سے ظاہر ہوا کہ تجربے کی سطح بھرتی کے فیصلوں کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی‘ انقلاب: خواتین اور دفتری ملازمین کی نوکریاں خطرے میں، اقوام متحدہ کی وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان عالمی سطح پر ملازمتوں کے بدلتے حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں کئی پیشہ ور افراد اپنے سی وی کو مختصر کر کے صرف حالیہ کام کا تجربہ شامل کر رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ متحرک اور جدید ماحول کے مطابق دکھائی دیں۔ اسی طرح بھارت میں بھی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران بعض امیدوار اپنی سابقہ سینئر پوزیشنز یا اضافی ڈگریاں ہٹا دیتے ہیں تاکہ انہیں حد سے زیادہ تجربہ کار قرار دے کر مسترد نہ کیا جائے۔
ٹیکنالوجی بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بہت سی کمپنیوں میں اب خودکار بھرتی کے سسٹمز استعمال ہوتے ہیں جو درخواستوں کو مخصوص الفاظ، تجربے کی مدت یا عہدوں کی بنیاد پر فلٹر کرتے ہیں۔ اسی لیے امیدوار اپنے سی وی کو ہر اسامی کے مطابق ترتیب دینے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کا مستقبل: خطرہ، تبدیلی یا موقع؟
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ سی وی مختصر کرنے سے انٹرویو کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، لیکن اہم معلومات چھپانا بعد میں مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر آجر کو معلوم ہو جائے کہ امیدوار نے اہم معلومات چھپائی ہیں تو اس سے اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ امیدوار اپنے تجربے کو ملازمت کے مطابق پیش کریں مگر گمراہ کن معلومات سے گریز کریں۔ موجودہ مسابقتی دور میں یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ صرف تجربہ ہی نہیں بلکہ اسے پیش کرنے کا طریقہ بھی نوکری حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔













