امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے لگی ہے جس کے نتیجے میں امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد امریکی صارفین کو ایندھن کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد اضافے کا سامنا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔
🚨🇺🇸🇮🇷OIL PRICES SET TO SPIKE AFTER U.S STRIKE ON IRAN
Analysts expect oil to jump by $3–$5 per barrel when markets reopen Sunday night after the U.S bombed Iran’s nuclear sites.
And that’s if things don’t spiral.
If Iran hits back hard and disrupts oil flow, analysts say… https://t.co/PAXU4O6eDE pic.twitter.com/VvhMoibFTj
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) June 22, 2025
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس ہفتے نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث تیل اور ایندھن کی عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک سیاسی امتحان بھی بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان میں پیٹرول کتنا مہنگا ہوسکتا ہے؟
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی اوسط قومی قیمت 3.32 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو ایک ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہے اور ستمبر 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 4.33 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے جو ایک ہفتے میں تقریباً 15 فیصد اضافے کے بعد نومبر 2023 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکا کے مڈویسٹ اور جنوبی ریاستوں میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریاست جارجیا میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 40 سینٹ فی گیلن اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ انڈیانا اور ویسٹ ورجینیا میں بھی قیمتوں میں 40 سینٹ سے زائد اضافہ ہوا۔
🇺🇸🇮🇷 OIL JUST SPIKED OVER U.S.-IRAN WAR FEARS
Brent crude hit a 6-month high after talk of a possible U.S. strike on Iran.
Energy stocks jumped too, so markets aren’t taking this lightly.
Source: @IranIntl_En https://t.co/DC7KRWh0lU pic.twitter.com/NeZ42BeNYc
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 29, 2026
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں اور سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3.50 سے 3.70 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے۔
جمعہ کو امریکی تیل کے سودے 90.90 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جو کئی برسوں میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے باعث امریکی تیل کی عالمی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس سے مقامی سطح پر بھی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی تجارت اور پیٹرولیم کی ترسیل کے لیے 6 اہم ترین بحری راستے کونسے ہیں؟
اس کے علاوہ موسم بہار اور گرمیوں کے دوران پیٹرول کی طلب میں اضافہ اور مہنگی سمر بلینڈ پیٹرول کی پیداوار بھی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات خوراک، اشیائے ضروریہ اور عالمی تجارت سمیت مختلف شعبوں پر پڑتے ہیں کیونکہ ڈیزل بنیادی طور پر مال برداری، صنعت اور زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔













