جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر کمانڈوز کی کارروائی کی ویڈیو جاری کی گئی، جبکہ رپورٹس کے مطابق تہران کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں مندی، تیل اور اسٹاک قیمتیں دباؤ کا شکار
میڈیا رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز میں 1.23 ڈالر یا 1.17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 106.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچرز 1.07 ڈالر یا 1.12 فیصد اضافے کے ساتھ 96.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔
دونوں بڑے بینچ مارک معاہدے جمعرات کو 3 فیصد سے زائد بڑھ گئے تھے اور ایران کے دارالحکومت تہران کے اوپر فضائی دفاعی کارروائیوں اور سخت گیر و معتدل دھڑوں کے درمیان طاقت کی کشمکش کی خبروں کے بعد فی بیرل 5 ڈالر تک اضافہ دیکھا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ممکنہ طور پر 2 ہفتے کی جنگ بندی کے دوران اپنے ہتھیاروں میں کچھ اضافہ کیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اسے ایک دن میں ختم کر سکتی ہے۔
ہائٹونگ فیوچرز نے ایک رپورٹ میں کہا کہ جنگ بندی کا مرحلہ اب جنگ کی تیاری کے مرحلے جیسا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر اپریل کے آخر تک امریکا ایران مذاکرات میں کوئی اہم پیشرفت نہ ہوئی اور لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو تیل کی قیمتیں اس سال کی نئی بلند ترین سطح تک جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:تیل کی فروخت پر پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیوبا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز
ایران نے جمعرات کو ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں کمانڈوز کو تیز رفتار کشتیوں میں ایک بڑے کارگو جہاز پر کارروائی کرتے دکھایا گیا، جو آبنائے ہرمز پر اس کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مستقل امن کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے اور وہ ’بہترین معاہدہ‘ چاہتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنا انتظار کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے جلدی نہ کرو‘۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں طویل تعطل رہا تو مئی یا جون کے آخر تک عالمی تیل کے ذخائر پانچ سال کی کم ترین سطح تک جا سکتے ہیں، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ بھی اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان نے وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد جنگ بندی کو تین ہفتے کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔














