اقوام متحدہ کی وارننگ، چرنوبل کے قریب فوجی کارروائیاں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین میں جاری جنگ کے دوران روسی میزائلوں اور ڈرونز کی پروازیں چرنوبل کے جوہری پلانٹ کے قریب سے گزارے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے ایک نئے جوہری حادثے کے خطرات بڑھنے پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یوکرین کے سرکاری حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روسی افواج یوکرین پر حملوں کے دوران بارہا اپنے میزائل اور ڈرون ایسے راستوں سے گزار رہی ہیں جو چرنوبل کے غیر فعال جوہری پلانٹ کے قریب سے گزرتے ہیں، جس سے کسی بڑے جوہری حادثے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے چیف پراسیکیوٹر روسلان کراوچینکو نے خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات کے قریب روسی فوجی سرگرمیاں مسلسل خطرناک ہوتی جا رہی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک 1986 کے چرنوبل سانحے کی 40ویں برسی منانے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے چرنوبل کی تباہی کا قصہ: ہمارے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے؟

ان کے مطابق چرنوبل کے علاوہ مغربی یوکرین میں واقع خمیلنیٹسکی جوہری پاور پلانٹ بھی روسی ہائپرسانک “کنژال” میزائلوں کے راستے میں شامل رہا ہے، جو ماسکو کی جانب سے مکمل جنگ کے آغاز کے بعد سے جاری ہے۔

کراوچینکو نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 35 کنژال میزائل ان تنصیبات سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر سے گزرتے ہوئے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے 18 میزائل ایسے تھے جو بیک وقت دونوں مقامات کے قریب سے گزرے۔

انہوں نے کہا کہ ان میزائل پروازوں کی کوئی فوجی توجیہہ نہیں بنتی اور یہ محض خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

مزید برآں، جولائی 2024 کے بعد جب روس نے ڈرون حملوں میں شدت پیدا کی، کم از کم 92 ڈرون چرنوبل پلانٹ کے ریڈی ایشن شیلڈ سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں پرواز کرتے پائے گئے۔

روسی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

جوہری تنصیبات کو لاحق مسلسل خطرات

چرنوبل کے بند ہو چکے پلانٹ کے علاوہ یوکرین میں چار فعال جوہری بجلی گھر موجود ہیں، جن میں یورپ کا سب سے بڑا زاپوریژیا پلانٹ بھی شامل ہے، جو 2022 میں جنگ کے آغاز کے فوراً بعد روسی کنٹرول میں چلا گیا تھا۔

1986 کے چرنوبل حادثے نے پورے یورپ میں تابکاری پھیلا دی تھی اور سوویت یونین کو بڑے پیمانے پر ہنگامی اقدامات کرنا پڑے تھے۔ اس پلانٹ کا آخری فعال ری ایکٹر سن 2000 میں بند کر دیا گیا تھا، جبکہ اس کے اردگرد 30 کلومیٹر کا علاقہ آج بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کی تشویش اور انتباہ

اقوام متحدہ نے یوکرین جنگ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے عہدیدار خالد خیاری نے کہا کہ یوکرین میں لڑائی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ سفارتی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق روسی حملوں میں شدت کے باعث شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 40 سال قبل سوویت یونین کے ایٹمی پاور پلانٹ میں دھماکے کے عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق فروری 2022 سے اب تک کم از کم 15 ہزار 578 یوکرینی شہری، جن میں 784 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک جبکہ 43 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

خیاری نے روس کی جانب سے اپریل میں اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بھی کوشش، خواہ محدود ہی کیوں نہ ہو، شہریوں کو کچھ مہلت فراہم کر سکتی ہے۔

چرنوبل سانحے کی برسی قریب آنے کے تناظر میں انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات کے قریب فوجی سرگرمیاں انتہائی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جوہری مقامات کے اطراف تمام فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں، کیونکہ اس تنازع کے بے قابو ہونے کی صورت میں انسانی جانوں کا نقصان مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کے نتائج غیر متوقع ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp