امریکی حکومت مبینہ طور پر ان افغان شہریوں کے مستقبل پر غور کر رہی ہے جو سابق امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اس وقت قطر میں ایک سابق امریکی فوجی اڈے پر عارضی طور پر مقیم ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان افراد کو 2 آپشنز دیے جا سکتے ہیں: یا تو انہیں وسطی افریقی ملک کانگو میں دوبارہ آباد کیا جائے، یا پھر انہیں واپس طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان بھیج دیا جائے۔
مزید پڑھیں: باجوڑ کنڑ سرحد پر برفباری سے ہلاک دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا
یہ افغان شہری 2021 میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں سے نکالے گئے تھے، جب طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔ اس وقت وہ قریباً 1,100 سے زائد افراد کی صورت میں قطر میں عارضی رہائش پذیر ہیں اور امریکا میں دوبارہ آبادکاری کے منتظر ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض امریکی رہنماؤں نے اس تجویز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ایسے ملک میں منتقل کرنا خطرناک ہوگا جو خود بھی عدم استحکام اور تنازعات کا شکار ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں بچی سے زیادتی کا مقدمہ، افغان شہری مجرم قرار
امریکی حکام نے تاحال کانگو کو حتمی منزل کے طور پر باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کیا، لیکن اسے رضاکارانہ آبادکاری کے ممکنہ حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں اور افغان اتحادیوں کے مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔














