امریکا افغان شہریوں کو کانگو یا طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان واپس بھیجنے پر غور کر رہا ہے

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکومت مبینہ طور پر ان افغان شہریوں کے مستقبل پر غور کر رہی ہے جو سابق امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اس وقت قطر میں ایک سابق امریکی فوجی اڈے پر عارضی طور پر مقیم ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان افراد کو 2 آپشنز دیے جا سکتے ہیں: یا تو انہیں وسطی افریقی ملک کانگو میں دوبارہ آباد کیا جائے، یا پھر انہیں واپس طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان بھیج دیا جائے۔

مزید پڑھیں: باجوڑ کنڑ سرحد پر برفباری سے ہلاک دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا

یہ افغان شہری 2021 میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں سے نکالے گئے تھے، جب طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔ اس وقت وہ قریباً 1,100 سے زائد افراد کی صورت میں قطر میں عارضی رہائش پذیر ہیں اور امریکا میں دوبارہ آبادکاری کے منتظر ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض امریکی رہنماؤں نے اس تجویز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ایسے ملک میں منتقل کرنا خطرناک ہوگا جو خود بھی عدم استحکام اور تنازعات کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں بچی سے زیادتی کا مقدمہ، افغان شہری مجرم قرار

امریکی حکام نے تاحال کانگو کو حتمی منزل کے طور پر باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کیا، لیکن اسے رضاکارانہ آبادکاری کے ممکنہ حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں اور افغان اتحادیوں کے مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp